غیر منظم ورکرس کے تحفظ پر حکومت کو ہائی کورٹ کی نوٹس

   

حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے غیر منظم ورکرس کے تحفظ کے بارے میں مرکز اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ لاک ڈائون اور کورونا وباء کے حالات سے متاثرہ غیر منظم شعبہ کے ورکرس کے تحفظ میں ناکامی کی شکایت کرتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا نے درخواست میں شکایت کی کہ مرکز اور ریاستی حکومت نے ورکرس کی بھلائی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ غیر منظم شعبہ کے ورکرس کے تحفظ کے متعلق مرکزی قانون کی دفعہ 6 کے تحت ریاستی حکومت کو سوشیل سکیوریٹی بورڈ تشکیل دینا چاہئے۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے اندرون دو ہفتہ حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ قانون پر عمل آوری نہ کیئے جانے کے سبب ایک کروڑ سے زائد غیر منظم شعبہ کے ورکرس اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ لاک ڈائون اور وائرس کے بحران کے دوران وہ نہ صرف روزگار سے محروم ہوگئے بلکہ آمدنی کے بغیر افراد خاندان کے گزر بسر میں دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں۔ عدالت نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے غیر منظم شعبوں کے ورکرس کی بھلائی اور تحفظ کے سلسلہ میں کئے جارہے اقدامات پر جواب طلب کیا ہے۔