فارمولہ ای ریسنگ ‘گورنر نے کے ٹی آر کے خلاف کارروائی کی اجازت دی

   

سیاسی حلقوں میں ہلچل ، 55 کروڑ کی ادائیگی کی جانچ، عدالت میں عنقریب چارج شیٹ
حیدرآباد ۔ 20۔نومبر (سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ جشنو دیو ورما نے فارمولہ ای ریس معاملہ میں سابق وزیر کے ٹی آر کے خلاف جانچ کی اینٹی کرپشن بیورو کو اجازت دے دی ہے۔ تقریباً تین ماہ سے اینٹی کرپشن بیورو کو گورنر کی جانب سے کے ٹی آر کے خلاف کارروائی کی اجازت کا انتظار تھا ۔ گورنر کی اجازت کے بعد اینٹی کرپشن بیورو کے ٹی آر کے خلاف کریمنل کیس درج کرتے ہوئے عدالت میں چارج شیٹ پیش کرے گا۔ فارمولہ ای ریسنگ معاملہ 54.88 کروڑ کی مبینہ بے قاعدگیوں کا الزام ہے اور اینٹی کرپشن بیورو نے مقدمہ میں کے ٹی راما راؤ کو A1 اور آئی اے ایس عہدیدار اروند کمار کو A2 ملزم کے طور پر شامل کیا ہے۔ کے ٹی راما راؤ تحقیقات کے سلسلہ میں اینٹی کرپشن بیورو کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔ اینٹی کرپشن بیورو نے کے ٹی آر کے خلاف ٹھوس ثبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے کارروائی کی اجازت کیلئے گورنر کو مکتوب روانہ کیا تھا۔ گورنر نے آخرکار اجازت دے دی ہے اور توقع ہے کہ اینٹی کرپشن بیورو نے جلد ہی اس معاملہ میں عدالت میں چارج شیٹ داخل کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے قانونی ماہرین سے مشاورت اور اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد کے ٹی آر کے خلاف کارروائی کی اجازت دی ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے فارمولہ ای ریسنگ معاملہ میں مقدمہ درج کئے جانے کے بعد سے ہی سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ چکی ہے۔ اے سی بی نے کے ٹی آر کے خلاف کارروائی کی اجازت طلب کرتے ہوئے تحقیقات کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے ۔ واضح رہے کہ 9 ستمبر کو اینٹی کرپشن بیورو نے گورنر کو فائل روانہ کی تھی۔ گورنر نے صدر جمہوریہ کے دفتر سے قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد کارروائی کی اجازت کے احکامات جاری کئے۔ کے ٹی آر کے علاوہ آئی اے ایس عہدیدار اروند کمار ، ایچ ایم ڈی اے چیف انجنیئر بی ایل این ریڈی اور سابق اسپیشل آفیسر کرن کمار کے خلاف چارج شیٹ داخل کیا جاسکتا ہے۔ آئی اے ایس عہدیدار اروند کمار اور بی ایل این ریڈی کے خلاف کارروائی کے لئے ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے پہلے ہی اجازت دے دی ہے۔ گورنر کی منظوری کے بعد توقع ہے کہ تحقیقات میں تیزی پیدا ہوگی اور تلنگانہ کا سیاسی ماحول بھی گرم ہوگا۔ واضح رہے کہ 11 فروری 2023 کو حیدرآباد میں فارمولہ ای کار ریسنگ کے انعقاد کے لئے گرین کو کمپنی کو کسی معاہدہ کے بغیر ہی 54.88 کروڑ جاری کئے گئے تھے ۔ اس وقت کے ٹی آر بلدی نظم و نسق کے وزیر تھے ۔ محکمہ فینانس اور آر بی آئی کی اجازت کے بغیر بیرونی کمپنی کو رقومات کی اجرائی پر اے سی بی نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ عہدیداروں نے تحقیقات کے دوران اعتراف کیا تھا کہ کے ٹی آر کی ہدایت پر یہ رقم جاری کی گئی تھی۔1