ڈی ناگیندر کا انٹرویو ، کے سی آر کی فلاحی اسکیمات کی ستائش
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : فارمولہ ای ریس کے انعقاد سے متعلق سیاست اور تنازعات کے درمیان بی آر ایس رکن اسمبلی دانم ناگیندر جنہوں نے کانگریس سے وفاداریاں تبدیل کیں ۔ اعتراف کیا کہ فارمولا ای ریس نے حیدرآباد کی برانڈ امیج کو بڑھایا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ فارمولا ای ریس نے حیدرآباد کی شبیہہ کو مزید فروغ دینے میں مدد کی ہے ۔ متحدہ آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے حیدرآباد میں فارمولا ون ریس کی میزبانی کے لیے کافی کوشش کی تھی ۔ اس مقصد کے لیے گچی باولی میں زمین بھی حاصل کی گئی تھی اور ایک بین الاقوامی ٹیم نے حیدرآباد کا دورہ بھی کیا تھا ۔ تاہم مختلف وجوہات کی وجہ سے فارمولا ون ریس کا ایونٹ حیدرآباد میں نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو کے دوران یاد کیا ۔ فارمولا ای ریس نے یقینی طور پر حیدرآباد کی برانڈ امیج کو فروغ دیا ہے اور بین الاقوامی توجہ مبذول کی ہے ۔ ڈی ناگیندر نے کہا کہ بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ عالمی شہروں کے درمیان سخت مقابلے کے باوجود یہاں تک کہ دبئی حیدرآباد نے اس تقریب کی میزبانی کی ۔ ایونٹ کی میزبانی کا مقصد حیدرآباد کی شبیہہ کو بڑھانا تھا ۔ ناگیندر نے بی آر ایس سربراہ کے سی آر کی ریاست میں کئی فلاحی اور ترقیاتی پروگراموں کو متعارف کرانے پر بھی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو تلنگانہ کی عوام ان کے فلاحی اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ اگرچہ ان کی زبان اور تقریر کچھ لوگوں کو تھوڑی سخت لگتی ہے لیکن وہ نرم دل انسان ہیں ۔ حیڈرا کی شہر بھر میں مسماری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تجاوزات کا خاتمہ قابل قبول ہے لیکن غریب لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ان کے مکانات گرائے جارہے ہیں ۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اقتدار میں ہونے کے باوجود بعض اوقات ہمیں حکومت کے خلاف اس طرح کے اقدامات پر اعتراض کرنا پڑرہا ہے ۔ ناگیندر نے کہا کہ پارٹی کے کسی بھی قائد نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی شہر میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے کئے جانے والے اقدامات پر بات کہی ۔ حیدرآباد میں سیاسی خلا تھا اور کیڈر کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی ۔ اگرچہ چیف منسٹر ریونت ریڈی شہر میں چند ترقیاتی کام کررہے تھے لیکن کیڈر کی طرف سے کوئی جوش یا ردعمل نہیں تھا انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام مسائل کو مناسب وقت پر چیف منسٹر کے ساتھ اٹھائیں گے ۔۔ ش