صدرایمانوئیل میکرون کو سخت مقابلہ کے بعد کامیابی کا حصول ،ووٹرس کو راغب کرنے کی کوشش
پیرس:فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کو صدارتی انتخاب میں دائیں بازو کی مارین لے پین سے سخت مقابلے کا سامنا ہے جہاں ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلہ میں ایمانوئیل میکرون نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ فرانسیسی ووٹرز نے ملک کے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں اتوار کو ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کیا اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، موجودہ انتخابات کئی مہینوں تک فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے لیے آسان نظر آرہے تھے لیکن اب دائیں بازو کی مارین لے پین کی جانب سے انہیں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ میڈیا کے مطابق مرکزی سوچ رکھنے والے ایمانوئیل میکرون دوسری 5 سالہ مدت کے لیے فرانس کے ووٹروں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے راستے میں 11 دیگر امیدواروں اور ووٹروں کی عدم توجہی حائل ہے۔کئی فرانسیسی شہری ایمانوئیل میکرون پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ خوراک، ایندھن اور حرارت کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کر سکے یا انہوں نے یوکرین کی جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے دوران اپنے ملک کے اندرونی معاملات اور خدشات کو نظر انداز کیا۔یورپی یونین کی مشرقی سرحد پر جنگ چھڑنے کے ساتھ حالیہ فرانسیسی صدارتی انتخابات کے اہم بین الاقوامی اثرات ہوسکتے ہیں، جن میں جنگ کے بعد سامنے آنے والے حالات میں یہ بات واضح ہوگی کہ فرانس کے حوالے سے یورپی پاپولزم بڑھ رہا ہے یا زوال کی جانب گامزن ہے۔جرمنی کے بعدفرانس 27 رکنی نیٹو بلاک کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جبکہ یہ واحد نیٹو ملک ہے جس کے پاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ویٹو پاور اور جوہری طاقت ہے۔دوسری جانب سے یوکرین پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اپنی فوج کے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، اس دوران فرانس یورپ کے ردعمل کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور ایمانوئیل میکرون واحد سرکردہ صدارتی امیدوار ہیں جو نیٹو فوجی اتحاد کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اتوار کو ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدوار 24 اپریل کو فیصلہ کن انتخابی مرحلے کی جانب بڑھیں گے۔اگر ان دونوں امیدواروں میں سے کسی ایک امیدوار نے اتوار کو ملک بھر میں آدھے سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کیے تو دونوں امیدوار اگلے مرحلے میں مد مقابل ہوں گے۔اب تک فرانس کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ابتدائی مرحلے میں ہی کسی امیدوار نے آدھے سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں۔فرانس میں ووٹنگ بیلٹ پیپرز کے ذریعے ہوتی ہے، ووٹر ذاتی طور پر ووٹ ڈالنے کے پابند ہیں، جو لوگ ایسا نہیں کر سکتے وہ وقت سے پہلے کسی اور کو ووٹ دینے کا اختیار دینے کے انتظامات کر سکتے ہیں۔اپریل کی سخت سردی کی پروا کیے بغیر کئی ووٹرز اتوار کو جنوبی پیرس کے ایک پولنگ اسٹیشن کے کھلنے سے پہلے ہی قطار میں کھڑے ہو گئے تھے۔
اور جب پولنگ شروع ہوئی تو اپنے ووٹ کا استعمال کی۔
کوڈ-19 کے حفاظتی انتظامات کو مد نظر رکھتے ہوئے رائے دہندگان میں سے بہت سے لوگوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے اور بہت سے لوگ ہینڈ جیل کا استعمال کر رہے تھے۔دوپہر تک فرانس کے صرف ایک چوتھائی رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے تھے جو گزشتہ انتخابات سے کچھ کم تھے، ووٹنگ سے پہلے سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے دوران کم ٹرن آؤٹ ایمانوئیل میکرون کی جیت کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن اس سے ان کی حریف امید وار مارین لے پین کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔