پاکستان کا اظہارِ مذمت ’’ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے‘‘ ،رسوائے زمانہ ہفت روزہ کی ردعمل ، خاطیوں پر مقدمہ کا آغاز
پیرس۔ رسوائے زمانہ فرانسیسی ہفت روزہ میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘ نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ کارٹونس دوبارہ شائع کرنے کا اعلان کیا۔چہارشنبہ کو فرانس میں ان 13 مرد و خواتین کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہونے والا ہے جن پر 2015ء میں ملعون میگزین کے دفتر پر حملہ کرنے والوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام ہے۔ میگزین نے اسی مناسبت سے ایک مرتبہ پھر گستاخانہ کارٹونس شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کا اعلان اداریہ میں کیا گیاہے ۔ اداریے کے ساتھ پانچ سال قبل شائع کیے گئے کارٹون کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ہمارے لیے تاریخ کا درجہ رکھتے ہیں اور تاریخ کو نہ مٹایا جاسکتا ہے اور نہ دوبارہ لکھا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ فرانس کے میگزین ’’چارلی ہیبڈو ‘‘ نے 2015ء میں پہلی بار پیغمبر اسلام ؐکے گستاخانہ کارٹونس شائع کئے تھے جس کے خلاف پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم و غصے کا اظہار اور شدید احتجاج کیا گیا تھا ،ساتھ ہی دیگر مذاہب کے افراد نے بھی میگزین کے اس فعل کی مذمت کی تھی۔پانچ سال قبل اس میگزین کی عمارت پر حملہ ہوا تھا جس میں تین حملہ آوروں سمیت ادارتی عملے کے 12 افراد مارے گئے تھے۔ حملہ کرنے والے شیرف اور سعید کوچی نے القاعدہ سے تعلق کا دعویٰ کیا تھا۔ فرانسیسی میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘نے اس اعلان کے ساتھ کہ ’’وہ کبھی ہار نہیں مانے گا‘‘ محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ متنازعہ خاکے دوبارہ شائع کئے ہیں جن کی وجہ سے 2015 ء میں اس پر حملہ ہوا تھا۔’’چارلی ہیبڈو‘‘نے متنازعہ کارٹون کی اشاعت ایسے موقع پر کی ہے جب 2015 ء میں حملے میں ملوث دو حملہ آوروں کو مبینہ طورپر اسلحے اور دیگر اسٹریٹیجک امداد فراہم کرنے والے ایک درجن سے زائد افراد کے خلاف چہارشنبہ کو مقدمے کا آغاز ہو رہا ہے۔طنز و مزاح پر مبنی میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘کے ڈائریکٹر نے میگزین کے تازہ شمارے میں لکھا ہے’’ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔انہوں نے مزید لکھا ہے کہ’’جنوری 2015 ء کے دہشت گرد حملوں کا مقدمہ اس ہفتے شروع ہونے سے قبل ان (کارٹونس) کو دوبارہ شائع کرنا ضروری تھا۔‘واضح رہے کہ ملعون ہفت روزہ پر7 جنوری 2015ء کو حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں متنازعہ کارٹون بنانے والا کارٹونسٹ بھی شامل تھا۔ حملہ آوروں کی مبینہ طورپر مدد کرنے والے 12مرد اور ایک خاتون کے خلاف پیرس کی ایک عدالت میں چہارشنبہ کو مقدمے کی کارروائی شروع ہورہی ہے۔ ’’چارلی ہیبڈو‘‘کا تازہ شمارہ، جس میں رسول اکرم ؐکے متنازعہ خاکے دوبارہ شائع کیے گئے ہیں، کو چہارشنبہ کو ہی فروخت کیلئے رکھا جائے گا۔یہ متنازعہ کارٹون سب سے پہلے 2005ء میں ایک ڈینیش اخبار ’’جے لینڈز پوسٹان‘‘ میں شائع ہوئے تھے۔
ایک سال بعد انہیں ’’چارلی ہیبڈو‘‘نے شائع کیا۔ اس کی اشاعت کے بعد سارے عالم اسلام میں زبردست غم و غصہ کا اظہار کیا گیا تھا۔ملعون میگزین نے اپنے تازہ شمارہ کے اداریہ میں لکھا ہے ’’ہمیں 2015 ء کے بعد سے ہی محمد ؐکے متنازعہ خاکے کو چھاپنے کیلئے مسلسل کہا جارہا تھا۔اداریہ میں کہا گیا کہ ’’ہم ایسا کرنے سے انکار کرتے رہے اس لیے نہیں کہ اس پر کوئی ممانعت تھی، قانون ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے لیکن ایسا کرنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے تھی، ایسی وجہ جس کے کوئی معنی ہوں اور جس سے بحث میں کوئی اضافہ ہو سکے۔”دوبھائیوں شریف اور سعید کواچی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ انہوں نے اس حملے کو پیغمبر اسلام ؐکی توہین کے انتقام کی کارروائی قرار دیا تھا۔ان دونوں بھائیوں نے میگزین کے دفتر میں داخل ہوکر فائرنگ کی تھی۔ جس میں میگزین کے ایڈیٹر، 4 کارٹونسٹس، 2 کالم نویس، ایک کاپی ایڈیٹر اور وہاں موجود ایک مہمان ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے میں ایڈیٹر کا ایک محافظ اور ایک پولیس ملازم بھی مارا گیا تھا۔ فائرنگ کے بعد دونوں بھائیوں نے دفتر سے باہر نکل کر نعرہ لگا یا تھا’’ہم نے اپنے پیغمبر کا انتقام لے لیا ہے‘‘۔’’چارلی ہیبڈو‘‘نے اپنے تازہ شمارے میں ایک کارٹون شائع کیا ہے جس میں رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ )ایک پلے کارڈ پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پلے کارڈ پرفرانسیسی زبان میں لکھا ہے’’میں چارلی ہوں۔” اس کے نیچے سرخی لگائی گئی ہے’’سب کچھ معاف ہے۔‘‘ صدر فرانس ایمانول میکرون نے کہا ہے کہ وہ اظہاررائے کی آزادی کے شہریوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ پیغمبر اسلام ؐکے گستاخانہ کارٹون کی ’’چارلی ہیبڈو‘‘کی طرف سے دوبارہ اشاعت کے سلسلے میں وہ کوئی بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔لبنان میں اپنے دورے کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صدر فرانس نے کہا کہ ہر فرانسیسی شہری کیلئے اہم ہے کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کریں اور ‘نفرت انگیز باتوں‘ سے بچیں ‘‘، لیکن وہ ’’چارلی ہیبڈو‘‘کی طرف سے متنازعہ کارٹونس کی اشاعت پر کوئی نکتہ چینی نہیں کریں گے۔مائیکرون نے کہا ’’کل سے مقدمہ شرو ع ہورہا ہے اور فرانس کیصدر کی حیثیت سے میں اس مرحلے پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔”پاکستان نے پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونس کو دوبارہ شائع کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق’’پاکستان، فرانسیسی جریدے ’’چارلی ہیبڈو‘‘کے گستاخانہ کارٹونس دوبارہ شائع کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہے‘‘۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کیلئے جان بوجھ کر کیے جانے والے اس اقدام کو آزادی اظہار یا آزادی صحافت کا نام دے کر کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح کی حرکت سے پرامن بقائے باہم کیساتھ ساتھ سماجی اور بین مذاہب ہم آہنگی کی عالمی خواہشات کو شدید نقصان پہنچتا ہے‘‘۔واضح رہے کہ خاطیوں پر مقدمہ چلائے جانے کی تاریخ 2 دن قبل ہی 2 ستمبر طئے کی گئی تھی۔
