فرقہ وارانہ منافرت کے درمیان محبت کی پہل

   

حصار : ہریانہ میں فرقہ وارانہ فسادات کے حالیہ واقعات کے درمیان ایک مہا پنچایت منعقد ہوئی۔ اس میں مختلف مذاہب، فرقوں اور گروپوں سے تعلق رکھنے والوں نے باہمی رشتوں کو مضبوط رکھنے اور دوسروں کو بھی اس کیلئے آمادہ کرنے کاعہد کیا۔ ہریانہ کے نوح اور اطراف میں فرقہ وارانہ فسادات کے حالیہ واقعات کے درمیان حصار ضلع میں کسان مزدور یونین کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں مختلف مذاہب، کسانوں کی تنظیموں اور کھاپ پنچایتوں کی ایک مہاپنچایت منعقد ہوئی، جس میں ہندو، مسلمان اور سکھو ں کے قائدؤں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ میٹنگ میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ ہندو، مسلمان اور سکھ سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے میوات خطے میں امن کو بحال کرنے کیلئے مل جل کر کام کریں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پورے واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائے اور قصورواروں کو گرفتار کرے۔ ایسے لوگوں کے خلاف فوراً کارروائی کی جائے، جنہوں نے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز تقاریر اور ویڈیوز پوسٹ کیں، جن سے فسادات کو ہوا ملی۔ مہاپنچایت کے منتظمین میں سے ایک سریش کوتھ کا کہنا تھا کہ ہریانہ کی مٹی کو ذات اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے بعض اضلاع کے پنچایتوں کے سربراہوں کی جانب سے اپنے اپنے گاؤں میں مسلم تاجروں کا بائیکاٹ کرنے کیلئے خط لکھنے کی مذمت بھی کی۔