حیدرآباد۔/14 ستمبر،( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے فصلوں کو نقصانات کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ ریاستی حکومت نے 2020 خریف سیزن کے دوران ستمبر اور اکٹوبر میں شدید بارش سے فصلوں کو ہوئے نقصانات کے بارے میں متضاد رپورٹس پیش کی ہیں جس پر کارگذار چیف جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ اور جسٹس ٹی ونود کمار پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل آف انڈیا کو ہدایت دی کہ چیف منسٹر اور چیف سکریٹری کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب پیش کئے جائیں جس میں نقصانات پر معاوضہ کی درخواست کی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے وزیر اعظم کو روانہ کردہ رپورٹ میں ڈیساسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت 600 کروڑ امداد کی اپیل کی ہے۔ چیف سکریٹری نے960 کروڑ کی امداد کی اپیل کرتے ہوئے فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ 1000 کروڑ بتایا ہے۔ دو شہریوں کی جانب سے مفاد عامہ کی درخواستیں دائر کی گئیں جس میں شکایت کی گئی کہ فصلوں کے نقصانات کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ تلنگانہ کے کسان کراپ انشورنس سے محروم ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل تلنگانہ بی ایس پرساد نے فصلوں کے نقصانات پر حکومت کی جانب سے کی گئی کارروائی کی تفصیلات بیان کی۔R