کا مکتوب حیدرآباد ۔27۔اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو مکتوبر روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کی فلاحی اسکیمات کے فوائد کی اجرائی پر نظر رکھنے کی درخواست کی تاکہ برسر اقتدار پارٹی انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے نے چیف الیکشن کمشنر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ 30 نومبر کو تلنگانہ میں آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے 2018 ء میں رعیتو بندھو اسکیم کا آغاز کیا تھا۔ کانگریس نے اس اسکیم کا خیرمقدم کیا لیکن حکومت کی جانب سے امدادی رقم کی اجرائی میں تاخیر کی جارہی ہے۔ کسانوں کو پہلی فصل کے لئے جون میں امداد جاری کی گئی جبکہ دوسری فصل کیلئے امدادی رقم کی اجرائی کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد رائے دہی سے عین قبل امدادی رقومات جاری کرتے ہوئے بی آر ایس انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہندوں پر رقمی امداد کی تقسیم کے اثر کو روکنے کیلئے الیکشن کمیشن کو اقدامات کرنے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل تمام فلاحی اسکیمات کے فوائد جاری کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 نومبر کو پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا آغاز ہوگا لہذا اس سے قبل حکومت کو پابند کیا جائے کہ امدادی اسکیمات کی رقومات جاری کردی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس نے رقومات کی اجرائی کی مخالفت کبھی نہیں کی ۔ مانک راؤ ٹھاکرے نے دلت بندھو اور دیگر اسکیمات کی امدادی رقم 3 نومبر سے قبل جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔