پڑوسی ممالک کے عوام میں شدید غم وغصہ لیکن حکمران صرف زبانی خرچ تک محدود
نیو یارک :نہتے فلسطینیوں کو طاقتور ترین ملک کی ایٹم بم اور ایٹمی آبدوزوں سے حملے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔اکتوبر کے پہلے ہفتے سے شروع ہونیوالی جنگ میں اسرائیل نے حماس کے حملوں کے جواب میں غزہ کی شہری آبادی پر وحشیانہ بمباری کرکے ہزاروں معصوم بچوں ، خواتین اور مردوں کو نشانہ بنایا۔ظلم کی انتہا یہ ہے کہ معصوم بچے پانی کی قطار میں جمع ہیں اور ان پر بم گرادئیے گئے، ایمبولینسوں ، ہاسپٹلس ، پناگزین کیمپوں اور اسکولوں پر سینکڑوں بم گرا کر دس ہزار سے زیادہ نہتے فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔غاصب اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں پر مغرب کی حمایت خاص طور پر امریکہ ، جرمنی، اٹلی، فرانس اور برطانیہ کا اس میں حصہ لینیسے انسانی حقوق کے ان علمبرداروں کی قلعی کھل گئی ہے۔فلسطین کے ساتھ سرحدیں لگنے والے ممالک لبنان، اردن، شام اور مصر میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے لیکن حکمران صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں،فلسطینیوں کے الفاظ کی گونج بہت بھاری ہے ۔اسرائیل اور اس کے حلیف نہتے فلسطینیوں سے خوفزدہ تھے اور مسلم امہ کے نام پرموجود 50 ممالک اسرائیل اور امریکہ سے خوفزدہ تھے۔ یہ ممالک اپنی خراب معیشت یا پھر امریکہ سے اسلحے کی خریداری پر محتاط نظر آئے۔اس وقت تک 70 فیصد سے زائد غزہ کی عمارتیں تباہ کی جاچکی ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں ، ہاسپٹلس میں جو مریض ہیں ان کے آپریشن کے لیے بیہوش کرنے والی اور دیگر ادویات موجود نہیں ہیں۔غزہ میں پانی اور بجلی کی فراہمی کے پلانٹس کو بمباری کرکے تباہ کردیا گیا ہے اور ایندھن ختم ہوچکا ہے۔ اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے رفع بارڈر سے بھی ایندھن لے جانے نہیں دیا جارہا۔پتھروں سے لڑنے والے نہتے فلسطینوں پر ٹنوں بارود گرا کر امریکہ اور اسرائیل کی ایٹمی حملوں کے اشارے ان کے خوف کی نشاندہی کررہی ہیں کہ وہ کتنے خوفزدہ ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے دفاع کا ذمہ دار اقوام متحدہ ناکام ہوگیا اور وحشیانہ بمباری میں ہزاروں بچوں ، عورتوں اور مردوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر بے بس ہے۔فلسطین میں ہلال احمر سمیت درجنوں مقامی اور غیرملکی امدادی اداروں کے کارکنان اور رضاکار اسرائیلی بمباری میں لقمہ اجل بن چکے ہیں ، 40 سے زائد صحافی اور ان کے خاندان بمباری میں شہید ہوچکے ، ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی عمارتوں کے ملبے میں دفن ہوچکے ہیں لیکن دنیا بے حس ہوچکی ۔