واشنگٹن: امریکی یونیورسٹیوں میں ایک ماہ تک جاری رہنے والے طلباء کے احتجاج کے بعد فلسطین کے حامیوں نے نیویارک کے ایک میوزیم پر قبضہ کر لیا ہے۔ مظاہرین نے بروکلین میوزیم کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا اور میوزیم کے اوپر ایک بیانرلٹکا دیا، جس پر ’آزاد فلسطین‘ لکھا تھا۔ یہ واقعہ جمعہ کو پیش آیا، جس کی تفصیلات اب سامنے آئی ہیں۔ اسی روز پولیس نے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں میں 114 افراد کو گرفتار کیا۔ مظاہرین نے میوزیم کے عملے پر حملہ کیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ اس کے بعد پولیس کو بلایا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں 34 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ نیویارک پولیس حکام کے مطابق عجائب گھر میں مظاہرین کے داخل ہونے سے پہلے ہی لوگوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔کچھ مظاہرین نے میوزیم کی دیواروں پر اسپرے پینٹ کرنے کی بھی کوشش کی۔ ان مظاہروں کا اہتمام ’ودن اوور لائف ٹائم‘ نامی تنظیم نے کیا تھا۔مظاہرین نے میوزیم سے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کی سرمایہ کاری کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔ میوزیم کے ترجمان ٹیلر میٹ مین کے مطابق پہلے داخلی دروازے بند کیے گئے اور پھر مظاہرین نے میوزیم کے سامنے واقع پلازہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد وہ سیدھے میوزیم کے اندر چلے گئے۔ ان کے ہاتھوں میں بینرز تھے، جن کے ساتھ وہ میوزیم کی چوٹی پر چڑھ گئے۔