سربراہ بین الاقوامی تعلقات عامہ حماس ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق کا خطاب
حیدرآباد۔17مئی(سیاست نیوز) دنیا کے بیشتر تمام بڑے ممالک ان کی اپنی ترجیحات اور مفادات کے سبب فلسطینی کاز کی حمایت سے زیادہ اسرائیلی مفادات کے تحفظ پر زور دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر موسی ابو مرزوق سربراہ بین الاقوامی تعلقات حماس نے ایشیاء مڈل ایسٹ فورم کی جانب سے منعقدہ ویبینار سے خطاب اور سوال جواب کے دوران یہ بات کہی۔ ڈاکٹر موسی ابو مرزوق نے بتایا کہ ہندستان ہی نہیں بلکہ امریکہ ‘ یوروپی ممالک‘ چین کے علاوہ دیگر سرکردہ ممالک کی جانب سے اپنے تجارتی مفادات کو ترجیح دی جانے لگی ہے جس کے سبب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ فلسطینی کاز کو حکومتی سطح پر تائید کم حاصل ہونے لگی ہے ۔ انہو ںنے واضح کیا کہ دنیا بھر میں آج بھی فلسطینی کازکو عوامی تائید حاصل ہے اور عوام کے دل فلسطینیوں اور ارض فلسطین کے لئے اتنے ہی دھڑکتے ہیں جتنے پہلے دھڑکتے تھے۔ ڈاکٹر موسی ابو مرزوق فلسطینی ’’ یوم نکبہ‘‘ کے 72 سال پورے ہونے پر ویبینار سے خطاب کرررہے تھے اور اس ویبینار میں دنیا کے مختلف حصوں سے سرکردہ افراد شریک رہے۔ انہوں نے اپن خطاب کے دوران فلسطین پر کئے جانے والے غاصبانہ قبضہ کے علاوہ 1948 میں کی جانے والی تباہی اور فلسطینی مواضعات و شہروں کی تباہی کے علاوہ فلسطینی عوام کے قتل و غارت گیری کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ یوم نکبہ کے موقع پر ان 534 مواضعات کو یاد کیا جاتا ہے جو اسرائیلی صہیونی قوتوں کی جانب سے تباہ کئے گئے تھے لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ نکبہ اور غاصبانہ قبضہ کا سلسلہ ترک کیا جاچکا ہے کیونکہ اب بھی فلسطینی عوام جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ ارض مقدس انہیں حاصل ہوجائے۔ ڈاکٹر موسی ابو مرزوق کے ہمراہ ویبینار میں ڈاکٹر مکرم بلاوی اور ڈاکٹر بلال کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ فلسطینی کاز کے حامی موجود تھے ۔ڈاکٹر ابو مرزوق نے اپنے خطاب کے بعد شرکاء کی جانب سے کئے گئے سوالات کے جواب بھی دیئے اور فلسطینی کاز کو عالمی تائید کے حصول میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کا تذکرہ اور عرب ممالک کے کردار پر بھی تفصیلات سے واقف کروایا۔
