’’ فلسطین ۔ ماضی، حال اور مستقبل ‘‘ پر ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد کا لکچر
حیدرآباد۔/22 اکٹوبر، ( راست ) انبیاء کی سرزمین فلسطین اس وقت دنیا کی سب سے ظالم و قاہر قوم کی جارحیت کی زد میں ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پر ظلم اور بربریت کے ایسے پہاڑ توے ہیں کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن فلسطینی مجاہدین اسرائیل کی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے ساری دنیا کے انصاف پسندوں کو آواز دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کی انسانیت سوز کارستانیوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔ فلسطینی گزشتہ پون صدی سے صیہونی طاقت سے نبرد آزما ہیں، ہزاروں فلسطینی اسرائیل کے سفاکانہ حملوں میں شہید ہوچکے ہیں، لاکھوں فلسطینی بے خانماں برباد ہوچکے ہیں۔ ان سارے مظالم کو انگیز کرتے ہوئے فلسطینی بیت المقدس کی بازیابی اور ارض فلسطین کی آزادی کیلئے جہاد و شہادت کی ایسی منزلیں طئے کررہے ہیں کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ غاصب اسرائیل، فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھارہا ہے اور دنیا کے حکمران خاموش تماشائی بن کر یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ حالات کی اس سنگینی میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا یہ دینی و ملی فریضہ ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں آواز بلند کریں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد سابق اسوسی ایٹ پروفیسر سیاسیات نے کانفرنس ہال جامع مسجد عالیہ گن فاؤنڈری میں تاریخ اسلام کی نشست سے بعنوان ’’ فلسطین ۔ ماضی ، حال اور مستقبل‘‘ لکچر دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی تاریخ بہت قدیم ہے، دنیا کے تین آسمانی مذاہب کا اس سرزمین سے تعلق ہے، کئی جلیل القدر انبیاء کی یہاں آمد ہوئی۔ مسلمانوں کا فلسطین سے روحانی اور جذباتی تعلق ہے۔ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو ہجرت کے بعد بھی سولہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز ادا کی۔ آپؐ کے سفر معراج کا آغاز بھی بیت المقدس سے ہوا۔ فلسطین عربوں کی سرزمین رہی، مغربی طاقتوں نے ایک سازش کے ذریعہ یہاں یہودیوں کو بسایا۔ فلسطینیوں کی جدوجہد رنگ لائے گی، ان کی قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی، فلسطین آزاد ہوگا اور بیت المقدس کی بازیابی ہوگی۔ حافظ رضوان نے قرت کلام پاک کی اور جناب انعام احمد نے مقرر کا تعارف کرایا اور دعا کی۔