غزہ ، 14 جنوری (یو این آئی) غزہ میں سخت سردی سے نبرد آزما فلسطینیوں پر تباہ حال عمارتوں کی دیواریں گر پڑیں، جس میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے ۔ غزہ میں بارش اور سردی نے قیامت ڈھا دی ہے ، اسرائیلی بمباری سے زخموں سے چور غزہ ایک اور المیہ کا شکار ہو گیا ہے ، شدید سردی اور طوفانی موسم نے مزید جانیں نگل لیں۔ طوفان کے دوران تباہ حال عمارتیں اور دیواریں گرنے سے پانچ فلسطینی جاں بحق ہو گئے ، محکمہ شہری دفاع کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں بے گھر 15 لاکھ فلسطینیوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ دو سال سے زیادہ ہول ناک اسرائیلی بمباری اور امداد کی کمی کے بعد غزہ میں زندگی کے خطرناک حالات برقرار ہیں۔ علاقے میں 10 اکتوبر سے جنگ بندی نافذ ہے تاہم خوراک، ایندھن اور محفوظ پناہ گاہوں کی شدید کمی نے لوگوں کو سردی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ مہاجر کیمپوں کے قریب پڑا کچرا وبائی امراض کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے ۔ دوسری جانب اسرائیل فلسطین میں نسل کشی کے ساتھ اب کھیل دشمنی پر بھی اتر آیا ہے ، اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کے فلسطینی مہاجر کیمپ میں فٹ بال گراؤنڈ کو منہدم کرنے کا حکم جاری کر دیا، گراؤند میں لڑکے اور لڑکیاں ٹریننگ حاصل کر رہے تھے ۔ غزہ شہر کے سب سے بڑے الشفا اسپتال کے مطابق منگل کے طوفانی حالات میں مرنے والوں میں دو خواتین، ایک لڑکی اور ایک مرد شامل ہیں، سرد موسم کے باعث بچوں اور بوڑھوں کی متعدد دیگر ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے منگل کے روز کہا کہ رات کو ایک سالہ لڑکا ہائپوتھرمیا کی وجہ سے مر گیا، الجزیرہ عربی نے رپورٹ کیا کہ دو دیگر بچے پیر کی رات منجمد حالات اور ناکافی پناہ گاہ کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔
