فلسطینیوں پر مظالم ، مظلومین کی مدد کرنا مذہبی فریضہ

   

شہر کے مختلف مقامات پر اسرائیل کے خلاف صدائے احتجاج ، خصوصی دعائیں
حیدرآباد۔13۔اکٹوبر(سیاست نیوز) اسرائیل کے غزہ پر حملوں اور معصوم عوام کی ہلاکتوں کے خلاف دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں مختلف مقامات پر زبردست احتجاج منظم کیاگیا اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے ان پر ہونے والے مظالم پر دنیا کی خاموشی اور اسرائیل کی مدد پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ شہر کے مختلف مقامات پر احتجاج کے خدشات کے پیش نظر پولیس کی جانب سے آج وسیع تر صیانتی انتظامات کئے گئے تھے ۔ دن میں 11 بجے امبیڈکر مجسمہ بشیر باغ ‘ ٹینک بنڈ کے پاس سے اسرائیل کے خلاف احتجاج کا آغاز ہوا جہاں نوجوان بھارت سبھا نامی تنظیم کے زیر اہتمام مختلف جامعات کے طلبہ نے احتجاج میں حصہ لیا جنہیں پولیس کی جانب سے احتیاطی حراست میں لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔ غزہ میں ایک ہفتہ سے جاری اسرائیلی کاروائیوں کے خلاف منعقدہ اس احتجاج کے بعد شہر کے مختلف مقامات پر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ایس آئی او کی جانب سے بعد نماز جمعہ پر امن احتجاجی مظاہروں کا انعقاد عمل میں لایا اور اسرائیلی مظالم پر دنیا کی خاموشی پر برہمی کا اظہار کیا۔ نماز جمعہ سے قبل شہر کی بیشتر تمام سرکردہ مساجد میں غزہ میں جاری مظالم کے متعلق بیان کیا گیا اور فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضہ سے پیدا شدہ حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے آئمہ اکرام نے کہا کہ ظالم کے خلاف آواز اٹھانا ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور فلسطین و مسجد اقصیٰ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک انسانیت کا مسئلہ ہے اور ظالم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا انسانیت کی ذمہ داری ہے لیکن افسوس کے دنیا آج طاقت کے بل پر فلسطینیوں پر ظلم کرنے والی ناجائز ریاست اسرائیل کے مظالم پر محض زبانی احتجاج پر اکتفاء کر رہی ہے۔ دونوں شہروں کی مختلف مساجد میں نماز جمعہ سے قبل مصلیوں کے گذرنے کے راستہ پر فلسطینی پرچم بچھائے گئے تھے تاکہ مسلمان اس پرچم کو کچلتے ہوئے گذریں۔ جامع مسجد دارالشفاء کے علاوہ شہر کی دیگر مساجد میں مظلوم فلسطینیوں کے لئے خصوصی دعاء کی گئی اور عرب ممالک سے اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اتحاد کا ثبوت دیتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لئے آگے آئیں کیونکہ فلسطین کے مظلوموں کی مدد کرنا ان کے مذہبی فریضہ کے ساتھ ساتھ انسانی فریضہ بھی ہے۔ اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن کی جانب سے مختلف مقامات پر منعقدہ احتجاجی مظاہروں کے دوران نوجوان بیانرس تھامے ہوئے فلسطینی عوام سے اظہار یگانگت کر رہے تھے ۔ جمعہ کے پیش نظر مکہ مسجد کے قریب محکمہ پولیس کی جانب سے وسیع تر بندوبست کیا گیا تھا اور ریاپڈ ایکشن فورس‘ کیو آر ٹی کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے خصوصی دستوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی طرح مسجد عزیزیہ ہمایوں نگر کے پاس بھی محکمہ پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے گئے تھے اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ نماز جمعہ کے بعد کسی بھی مرکزی مقام پر احتجاجی مظاہرہ نہ کیا جائے۔