وینس، 23ستمبر (یو این آئی) آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلم سازوں یووال ابراہام اور ریچل زور کی نئی دستاویزی فلم نے سینما کی دنیا کے معتبر ترین میلوں میں شمار ہونے والے “وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول”میں اپنا پریمیئر کیا۔ گارڈین کی پیشکش اور ایک نہایت قابلِ توجہ تصور سے اپنا نام لینے والی نازا نامی فلم کو83 ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے مرکزی مقابلے میں نمائش کیا گیا۔ اس دستاویزی فلم کو اس سال فیسٹیول میں سینما کی دنیا کے بڑے ترین اعزازات میں سے ایک یعنی ‘گولڈن لائن ایوارڈ’ کے لیے مقابلہ کرنے والی واحد دستاویزی فلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔آخر یہ نازاکیا ہے جس کے نام پر اس دستاویزی فلم کا نام رکھا گیا ہے ؟فلم کا نام نازا سے لیاگیا ہے ، جو عبرانی زبان میں ایک عسکری مخّفف ہے اور اسرائیلی انٹیلی جنس اس مخّفف کو کسی حملے میں متوقع طور پر قتل ہونے والے شہریوں کی تعداد ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے ۔ اس کے معنی ثانوی نقصان کے ہیں۔ یہ فلم زیرِ محاصرہ غزہ میں شہری ہلاکتوں کی توقع کے باوجود فلسطینیوں کی شناخت، نگرانی اور ان پر حملے کے لیے استعمال کیے جانے والے خفیہ نظاموں کے بارے میں چونکا دینے والے حقائق منظرِ عام پر لاتی ہے ۔80 منٹ کے دورانیے کی اس چونکا دینے والی دستاویزی فلم کے پیشکار، دی گارڈیئن اور جے ڈبلیو فلمز سے جمیز ولسن اور انتظامی پیشکارجاناتھن گلیزر ہیں۔ یاد رہے کہ ولسن اورگلیزر اس سے پہلے ایک اور ہِٹ اور آسکر ایوارڈ یافتہ فلم دی زون انٹرسٹ یعنی دلچسپی کا علاقہمیں بھی ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔نازا دستاویزی فلم، 2023 سے 2025کے دوران اسرائیل اور فلسطین کی مشترکہ اشاعت 972 میگزین، عبرانی زبان کے جریدے لوکل کال، اور دی گارجین میں شائع ہونے والی گہری تحقیقی رپورٹوں پر مبنی ہے ۔دستاویزی فلم کے سب سے چونکا دینے والے پہلوؤں میں سے ایک خود اس نظام کے اندر سے سامنے آنے والی گواہیاں ہیں۔فلم میں اسرائیل کے 24فوجیوں اور انٹیلی جنس عہدیداروں کے بیانات شامل ہیں۔ انٹرویو دینے والے اسرائیلی انٹیلی جنس افسران اور فوجیوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی اُن نظاموں کا تفصیلی ذکر کیا جنہیں حماس کے نچلے درجے کے ارکان ہونے کے شبہے میں کثیر تعداد شہریوں کو بحیثیت ہدف دِکھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔