فلکیات کا اہم ترین نظارہ 3 مارچ کو

   

لندن ۔ 24 فبروری (ایجنسیز) فلکیات کے شوقین افراد تین مارچ کو ہونے والے مکمل چاند گہن کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ 2026 کا پہلا مکمل چاند گہن ہوگا اور اگلا ایسا موقع صرف 2029 میں آئے گا۔چاند گہن اس وقت ہوتا ہے ،جب زمین سورج اور چاند کے درمیان بالکل آ جاتی ہے اور اپنا سایہ چاند پر ڈال دیتی ہے۔ یہ ترتیب صرف چاند کے مکمل ہونے کے وقت ممکن ہے، جس سے سورج کی براہِ راست روشنی چاند تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس کے نتیجے میں چاند مدھم یا گہرا سرخ نظر آتا ہے، جسے عام طور پر ”خونی چاند ”کہا جاتا ہے۔سورج گہن کے برخلاف، چاند گہن کو بغیر کسی حفاظتی چشمے کے بھی محفوظ طریقے سے دیکھا جا سکتا ہے اور یہ زمین کے اس حصے سے نظر آتا ہے جو اس وقت رات میں ہے۔ گہن کئی گھنٹوں تک جاری رہتا ہے اور مکمل چاند گہن کی مکمل سایہ والی مدت تقریباً دو گھنٹے تک رہتی ہے۔ اکنامک ٹائمز کے مطابق تین مارچ کو یہ مکمل چاند گہن زمین کے تاریک رخ سے دیکھنے کیلئے مختصر وقت کیلئے نظر آئے گا۔ سورج کی روشنی زمین کے سایے میں آ کر چاند کو روشن کرتی ہے اور یہ منظر کسی بھی شخص کیلئے واضح طور پر دیکھنا ممکن ہے جو چاند کی طرف دیکھ رہا ہو۔
امریکی خلائی ایجنسی NASA کے مطابق مکمل چاند گہن کی کل مدت تقریباً 59 منٹ ہوگی۔جب گہن اپنی چوٹی پر پہنچتا ہے، تو چاند گہرے سرخ رنگ میں نظر آتا ہے، جسے ”خونی چاند ”کہا جاتا ہے۔ اس کا سبب ریلی کا پھیلاؤ (Rayleigh Scattering) ہے، جسے برطانوی سائنسدان جان ولیم ریلی نے دریافت کیا۔اس عمل کے دوران زمین کا فضا سورج کی روشنی کو فلٹر کرتی ہے اور لمبی سرخ روشنی چاند تک پہنچ کر اسے روشن کر دیتی ہے۔