فوجی جوانوں کو تنخواہیں دینے حکومت کے پاس فنڈس نہیں

   

Ferty9 Clinic

نئے تقررات نہیں ہوں گے، موجودہ سپاہیوں کی سرویس کو ہی جاری رکھنے کا منصوبہ

نئی دہلی: حکومت ہند نے فیصلہ کیا ہیکہ فوج میں شامل سپاہیوں کی خدمات کو جاری رکھا جائے کیونکہ نئے تقررات کیلئے حکومت کے پاس فنڈس کی کمی پائی جاتی ہے۔ مالیہ کی کمی کے باعث فوج میں عارضی تعطل پیدا ہوا ہے۔ فوجی طاقت کو بڑھانے کے بجائے حکومت جوں کا توں کام چلاؤ کا عمل جاری رکھنا چاہتی ہے۔ جنرل بپن راوت کی زیرقیادت نوتشکیل شدہ محکمہ فوجی امور نے تجویز رکھی ہیکہ ہندوستانی مسلح افواج کے آفیسرس کے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کیا جائے۔ ماقبل ریٹائرڈ ہونے والے آفیسرس کی پنشن میں بھی کٹوتی کی جائے۔ اس تجویز میں یہ بھی کہا گیا کہ محکمہ فوجی امور نے اعلیٰ مہارت کے حامل فوجی آفیسرس کی کمی کے باعث پنشن کے تصفیہ کا جائزہ لیا اور مسلح افواج میں بہتری لانے کیلئے نئی بھرتیاں کرنے کے بجائے موجودہ میان پاور سے ہی کام چلایا جائے۔ تجویز کے مطابق جن فوجی عہدیداروں نے زائد از 35 سال کی سرویس کی ہے، انہیں مکمل پنشن دی جائے گی جوکہ آخری دنوں میں حاصل کی جانے والی تنخواہ کا 50 فیصد پنشن دیا جائے گا۔ لڑائی کے دوران شہید ہونے والے جوانوں، فوجی عہدیداروں کی پنشن میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ 20 تا 25 کی خدمت انجام دینے والے آفیسرس کو 50 فیصد پنشن ملنے کا حق ہوگا۔ جو آفیسرس 26 تا 30 سال خدمت انجام دی ہیں انہیں 60 فیصد پنشن ملے گی۔ جن لوگوں نے 31 تا 35 سال خدمات انجام دی ہیں وہ 75 فیصد پنشن حاصل کرنے کے مستحق ہوں گے۔ صرف 35 سال سے زیادہ سرویس کرنے والوں کو ہی ان کی آخری تنخواہ کا 50 فیصد دیا جائے گیا۔ اس وقت 3,235,370 دفاعی وظیفہ یاب ہیں اور ہر سال اس میں 55 ہزار وظیفہ یابوں کا اضافہ ہوتا ہے۔