نئی دہلی۔ 28فروری (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کو خط لکھ کر سابق فوجیوں کی امدادی صحت اسکیم کے لیے مناسب فنڈ فراہم کرنے اور معذوری پنشن پر انکم ٹیکس کی پابندی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ راہول گاندھی نے اس سلسلے میں چہارشنبہ کے روز وزیرِ خزانہ کو خط لکھا ہے ، جس میں ان سے درخواست کی ہے کہ مسلح افواج کے اہلکاروں کو متاثر کرنے والی امدادی پنشن اسکیم میں فنڈ کی کمی دور کی جائے اور معذوری پنشن پر ٹیکس ہٹانے کے ضروری احکامات جاری کیے جائیں۔ انہوں نے لکھا کہ ‘سابق فوجیوں کی امدادی صحت اسکیم کے لیے مناسب مالی تخصیص کی جائے اور معذوری پنشن پر حال ہی میں عائد کیا گیا انکم ٹیکس واپس لیا جائے ۔ سابق فوجیوں کی امدادی صحت اسکیم سابق فوجیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرتی ہے ، لیکن اس وقت یہ اسکیم شدید مالی بحران کا شکار ہے ۔ اس اسکیم کے تحت 12,000 کروڑ روپے سے زائد کے طبی بل زیرِ التوا ہیں۔ اس میں بجٹ کی تخصیص ضرورت سے تقریباً 30 فیصد کم ہے ۔ ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے کئی اسپتال اس اسکیم سے الگ ہو رہے ہیں۔ سابق فوجی اپنی جیب سے خرچ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کینسر جیسی سنگین بیماریوں کے علاج میں تاخیر ہو رہی ہے ۔ راہول گاندھی نے یہ بھی کہا کہ مالیاتی بل 2026 میں یہ تجویز ہے کہ فوجی کی معذوری پنشن پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ سال 1922 کے بعد یہ پہلا موقع ہے ، جب معذوری پنشن کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پنشن کا مقصد زخمی فوجیوں کو راحت فراہم کرنا ہے ، اسے آمدنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ ساتھ ہی جب کوئی معذور فوجی رضاکارانہ طور پر یا درخواست پر اپنی خدمت جاری رکھتا ہے تو وہ زخمی ہونے کے باوجود بے لوث جذبے سے ملک کی خدمت کرتا ہے اور اس کی قدر کی جانی چاہیے ۔
ان فوجیوں کی پنشن پر ٹیکس عائد کرنا توہین آمیز ہے ۔