ڈیٹرائٹ : کار بنانے والی امریکی ملٹی نیشنل کمپنی فورڈ نے مالی خسارے کی وجہ سے ہندوستان میں کار تیار کرنے کے اپنے کارخانوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ہندوستان ی وزیر اعظم مودی کے’میک ان انڈیا‘مہم کیلئے ایک اور زبردست دھچکا ہے۔موٹر ساز امریکی کمپنی فورڈ نے جمعرات کواعلان کیا کہ وہ ہندوستان میں کاروں کی تیاری بند کررہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہیکہ ہندوستان ی بازار میں پائیدار جگہ بنانے کی اس کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ فورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 10برس کے دوران اسے دو ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ 2019 میں اس کے80 کروڑ ڈالر کے اثاثے بے کار ہوگئے۔فورڈ کے ہندوستان میں صدر اور منیجنگ ڈائریکٹر انوراگ مہروترانے ایک بیان میں کہاکہ ’’ہم طویل مدتی منافع حاصل کرنے کیلئے ایک پائیدار راستہ تلاش کرنے میں ناکام ہوگئے۔بیان میں مزید کہا گیا ہیکہ کمپنی کو امید ہیکہ اس کی تنظیم نو پر لگ بھگ دو ارب ڈالر کا خرچہ آئے گا۔ اس میں سے 60 کروڑ ڈالر تو اسی سال یعنی 2021 میں ہی خرچ ہوجائیں گے جبکہ اگلے برس 1.2 ارب ڈالر کا خرچ ہوگا۔ بقیہ اخراجات آنے والے برسوں میں ہوں گے۔فورڈ نے کہا ہیکہ وہ ہندوستان میں فروخت کیلئے کاروں کی تیاری کا کام فوراً بند کررہی ہے۔ گزشتہ برس ہارلے ڈیوڈ نے بھی ہندوستان سے واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ جنرل موٹرس نے 2017 میں ہندوستان چھوڑ دیا تھا۔فورڈ کمپنی مغربی گجرات کے اند میں واقع کارخانے کو بھی اس سال کے اواخر تک بند کردے گی، جہاں ایکسپورٹ کیلئے کاریں تیار کی جاتی ہیں۔ چینائی کے کارخانے میں فورڈ کاروں کے انجن تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں اسمبل بھی کیا جاتا ہے۔ کارخانے کو اگلے سال کی دوسری سہ ماہی تک بندکردیا جائے گا۔ اس فیصلے سے ہندوستان میں اس کے تقریباً چار ہزار ملازمین متاثر ہوں گے۔ امریکی ملٹی نیشنل کمپنی کے اس فیصلے کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اولوالعزم پروگرام ’میک ان انڈیا‘ کیلئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ آئی ایچ ایس مارکیٹ نامی کمپنی کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر گورو وانگال نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایاکہ یہ ہندوستان میں کاروں کی مینوفیکچرنگ کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ ہندوستان میں کار تیار کرکے امریکہ ایکسپورٹ کرنے والی یہ واحد کمپنی تھی۔ اور وہ ایسے وقت میں ہندوستان سے جارہی ہے جب ہم (ہندوستان ) کار تیار کرنے والوں کو پروڈکشن کے لیے مراعات دینے پر غور کررہے ہیں‘‘۔