آج جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن حاضر ہونے کی ہدایت
حیدرآباد ۔22 ۔ جنوری (سیاست نیوز) فون ٹیاپنگ اسکام کی جانچ میں اس وقت نیا موڑ دیکھا گیا جب خصوصی تحقیقات ٹیم نے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جمعہ کو 11 بجے تحقیقاتی عہدیداروں کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ دو دن قبل ہی سابق وزیر اور رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ کو ایس آئی ٹی نے جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن طلب کرتے ہوئے تقریباً 7 گھنٹوں تک تفتیش کی تھی۔ ہریش راؤ کے بعد کے ٹی آر کو تحقیقات کیلئے طلب کیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کے ٹی آر جس وقت سرسلہ میں تھے، حیدرآباد میں ان کی قیامگاہ نندی نگر پر نوٹس حوالے کی گئی۔ نوٹس میں صبح 11 بجے جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی نے ہریش راؤ کو جلد ہی دوسری مرتبہ طلب کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ واضح رہے کہ مارچ 2024 سے فون ٹیاپنگ معاملہ کی جانچ شروع کی گئی اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کئی سابق پولیس عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے جانچ کی تھی۔ ان میں بعض سابق عہدیداروں کو گرفتار کیا گیا جو ضمانت پر رہا ہوئے۔ سیاسی قائدین کو تحقیقات کیلئے طلب کئے جانے کا سلسلہ حکومت کی جانب سے دوسری خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے بعد شروع ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فہرست میں بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر بھی شامل ہیں۔کے ٹی آر کو دفعہ 160 سی آر پی سی کے تحت نوٹس جاری کی گئی۔ کے ٹی آر کے وکیل سوما بھرت نے نوٹس کی وصولی کی توثیق کی اور کہا کہ کے ٹی آر مقررہ وقت پر جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن پہنچیں گے۔ اسی دوران سابق وزیر ہریش راؤ اور دیگر بی آر ایس قائدین نے الزام عائد کیا کہ سنگارینی کالریز ٹنڈر اسکام سے توجہ ہٹانے کیلئے بی آر ایس قائدین کو نوٹس جاری کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت انتقامی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ 1