حیدرآباد۔ 15 جولائی (سیاست نیوز) فون ٹیاپنگ اسکام کی جانچ کے سلسلہ میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے روبرو روزانہ نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ بی آر ایس دور حکومت میں اپوزیشن قائدین اور اہم شخصیتوں کے ٹیلی فون ٹیاپنگ کے ذمہ داروں کے طور پر جن قائدین کے نام منظر عام پر آئے تھے ان میں سابق وزیر جگدیش ریڈی کے نام کا اضافہ ہوچکا ہے۔ بی ایس پی لیڈر اے جانیا نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پیش ہوتے ہوئے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے جانیا سے مختلف پہلوؤں پر سوالات کئے۔ تحقیقات کی تکمیل کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بی آر ایس لیڈر نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس دور حکومت میں جن اہم شخصیتوں کے ٹیلی فون ٹیاپ کئے گئے تھے ان میں وہ بھی شامل ہیں۔ 2022 سے ان کا ٹیلی فون ٹیاپ کیا جارہا تھا اور ان پر الزام ہے کہ وہ ماوسٹوں کے ہمدرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 25 مقدمات ان کے خلاف درج کئے گئے اور وہ 65 دنوں تک خفیہ مقام منتقل ہوچکے تھے۔ اسمبلی انتخابات کے موقع پر بھی میرا ٹیلی فون ٹیاپ کیا گیا جس وقت میں بی آر ایس میں تھا اسی وقت جگدیش ریڈی نے میرا فون ٹیاپ کرایا۔ بی سی قائدین کی آواز دبانے کے لئے جگدیش ریڈی نے انہیں نشانہ بنایا۔ جانیا نے کہا کہ اس وقت کے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور ان کے افراد خاندان کے ٹیلی فون بھی ٹیاپ کئے گئے۔ جانیا نے فون ٹیاپنگ میں ملوث جگدیش ریڈی سے استعفی کا مطالبہ کیا۔ بی آر ایس و بی ایس پی لیڈر نے کہا کہ فون ٹیاپنگ کے ذریعہ 30 اسمبلی حلقہ جات میں کامیابی حاصل کی گئی اور اس معاملہ کے انکشاف کے بعد تمام 30 ارکان اسمبلی کو استعفی دینا چاہئے۔ 1