حیدرآباد ۔ یکم ؍ اگست (سیاست نیوز) فوڈسیفٹی ڈپارٹمنٹس میں مصنوعی ذہانت (AI) پر عملدرآمد کرنے سے فوڈ اینڈ بیوریجس اور ہوٹل انڈسٹری کیلئے غذا کے سڑنے کی وجہ ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں مدد ہوسکتی ہے۔ طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے کئے گئے ایک ریسرچ میں یہ بات بتائی گئی۔ اس طرح اس سے کھانے کی اشیاء کے خراب ہونے کی وجہ ہونے والے نقصانات کم ہوسکتے ہیں اور آپریشنل کاسٹس بھی کم ہوتے ہیں۔ ’فوڈ ٹپریچر انالائسیس اینڈ فورکاسٹنگ‘ کے عنوان سے یہ ریسرچ نارائنا درپنینی، سلیکھا دلیپ دیناکر کومندوری، سروپ منچھلا، جی نندن، این پرجوال، سنتوش اور انویش ریڈی کی جانب سے کیا گیا جو گریٹ لرننگ کے اے آئی اینڈ مشین لرننگ پروگرام کا حصہ ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ہندوستان میں سالانہ 92,000 کروڑ روپئے مالیت کی غذائی اشیاء ضائع ہوجاتی ہیں اور ہوٹل انڈسٹری میں جملہ ضائع ہونے والی چیزوں میں 50 فیصد غذائی اشیاء ہوتی ہیں۔ اس ریسرچ میں کئی غذائی اشیاء کے درجہ حرارت کی اسٹڈی کیلئے ڈیٹا انالائیٹکس اینڈ میاتھمیٹکل ماڈل کا استعمال کیا گیا جسے انہوں نے تین ماہ کی مدت تک ریکارڈ کیا۔ ان طلبہ نے فوڈ ٹمپریچر میں تبدیلی کے وقت کی پیش قیاسی کرنے کیلئے ڈیپ لرننگ ماڈلس اور مشین لرننگ کا ٹائم ۔ سیریز سینسرس کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا حاصل کیا۔ یہ ماڈل وئیکم۔ پیاکڈ فوڈس کے درجہ حرارت، رطوبت اور گیس سطح کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ اس ریسرچ کا اصل مقصد ایک الگورتھم بنانا ہے جو غذا کے ہر نمونے میں درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ کے بارے میں بتائے گا۔ اس طرح ہوٹلس غذا کو باسی، بے مزہ ہونے سے بچا پائیں گے اور صحیح وقت پر اس کے استعمال کو یقینی بنا پائیں گے۔