گیاس کی قلت کے بعد ہوٹلس میں ایپس بند ، کئی ہوٹلس بھی بند ہونے کے قریب
حیدرآباد۔18۔مارچ(سیاست نیوز) ریاست میں گیس کی قلت نے فوڈ ڈیلیوری کا کام کرنے والے نوجوانوں کی آمدنی کو 30 فیصد سے زیادہ تک متاثر کیا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے اضلاع میں مجموعی اعتبار سے 4لاکھ 20 ہزار نوجوان فوڈ ڈیلیوری ایپس کے ذریعہ خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی گذر بسر کر رہے ہیں لیکن عالمی حالات کے نتیجہ میں گیس کی قلت نے ان کے کاروبارکو بھی بری طرح سے متاثر کردیا ہے۔ تلنگانہ میں UBER‘ RAPIDO‘ OLA‘ SWIGGY اور ZOMATO کے ذریعہ فوڈ ڈیلیوری کے کام انجام دینے والے نوجوانوں کا کہناہے کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران انہیں 30 فیصد کم آرڈر موصول ہورہے ہیں اور انہوں نے جب اس معاملہ کی تحقیق کی تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ گیس کی قلت کے سبب کئی ہوٹلوں نے فوڈ ڈیلیوری ایپ کو بند کردیا ہے اور شہر حیدرآباد ومیں ٹفن سنٹرس‘ اڈپی ہوٹلس اور بعض چھوٹے ریستوراں جو بند کئے جاچکے ہیں ان کی تعداد 2000 سے تجاوز کی جاچکی ہے کیونکہ چھوٹے ریستوراں موجودہ بحران کے حالات میں کالابازاری کا حصہ بننے کے متحمل نہیں ہیں۔ فوڈ ڈیلیوری ایپ پر خدمات کی انجام دہی کے ذریعہ روزگار حاصل کرنے والے نوجوانوں کا کہناہے کہ گیس کی قلت کے نتیجہ میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شہر حیدرآبادمیں محض رمضان المبارک کے سبب سرکردہ ریستوراں اور کاروبار چلائے جارہے ہیں۔ ان فوڈ ڈیلیوری ایپس پر کام کرنے والے نوجوانوں کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں موجود کئی سرکردہ ریستوراں بھی آن لائن فوڈ آرڈرس کاسلسلہ بند کرچکے ہیں اورکیونکہ آن لائن آرڈر کی وصولی کے نتیجہ میں انہیں کولہا دوبارہ جلانے کے لئے وقت لگنے لگا ہے جوکہ گیس کے خاتمہ کا سبب بن رہا ہے۔بتایاجاتاہے کہ شہر حیدرآباد میں فوڈ ڈیلیوری کرنے والے نوجوانوں کو یومیہ 6تا8 آرڈر مل جایا کرتے تھے لیکن اب وہ 2تا3 آرڈر تک ہی محدود ہوچکے ہیں جبکہ اضلاع میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوتی جا رہی ہے اور یومیہ اساس پر بند ہونے والی ریستوراں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں آن لائن آرڈرس بھی کم ہونے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں کالابازاری کے ذریعہ فروخت ہونے والے کمرشیل سیلنڈرس کی قیمتوں پر کسی بھی طرح کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور کئی سرکردہ ریستوراں کے ذمہ داروں کی جانب سے 3800تا5000 روپئے میں بھی سیلنڈر خریدا جانے لگا ہے کیونکہ انہیں ماہ رمضان المبارک کے دوران اپنے کاروبار کو جاری رکھنا ان کی مجبوری بنا ہوا ہے۔3