تقریب میں وزیراعظم مودی کے علاوہ کئی این ڈی اے قائدین کی شرکت متوقع
ممبئی: مہاراشٹراا حکومت کی باگ ڈور ایک بار پھر بی جے پی کے لیڈراور سابق وزیر اعلی دیویندر سریتا گنگادھر راؤ فڈنویس کو سونپنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ حلف برداری کی تقریب یہاں کے تاریخی آزاد میدان میں ہوگی۔ ریاست کے گورنر سی پی رادھا کرشنن جمعرات کی شام فڈنویس کووزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف دلائیں گے ۔ یہ فڈنویس کی وزیر اعلیٰ کے عہدہ کیلئے تیسری حلف برداری ہوگی، لیکن یہ حقیقی معنوں میں مکمل اکثریت کے ساتھ ان کی دوسری حکومت ہوگی۔ فڈنویس نے چہارشنبہ کو مہاراشٹرا بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد، مہا یوتی اتحاد کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ، یہاں راج بھون میں گورنر کو حمایت کا ایک خط دیا اور نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ فڈنویس کے ساتھ گورنر سے ملاقات گئے قائدین میں شیوسینا لیڈر اور سابق سبکدوش ہونے والے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے ، مہاوتی اتحاد کے تیسرے بڑے پارٹنر این سی پی لیڈر اجیت پوار، مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتارامن اور گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی شامل تھے ۔قبل ازیں فڈنویس کو بی جے پی کی مرکزی مبصرین سیتا رمن اور روپانی کی نگرانی میں پارٹی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں متفقہ طور پر لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد مہاوتی اتحاد کے ارکان اور لیڈروں کی ایک الگ میٹنگ ہوئی اور وہاں سے اتحاد کے سینئر لیڈر فڈنویس کے ساتھ نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ کرنے راج بھون پہنچے ۔فڈنویس نے گورنر کو حلیف پارٹی قائدین کی طرف سے حمایت کے خطوط سونپے۔ تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود ہوں گے۔ اس موقع پر وزرائے اعلیٰ اور قومی جمہوری اتحاد کی حکومت کے سینئر قائدین کی بھی شرکت کا امکان ہے۔
گورنر سے ملاقات کے بعد فڈنویس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مہاوتی نے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے ۔ انہوں نے شیو سینا لیڈر شندے کا شکریہ ادا کیا اور کہا، [؟]انہوں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے میرے نام کی حمایت کی ہے ۔ این سی پی لیڈر اجیت پوار نے بھی میرے نام کی سفارش کی۔ حلف برداری کی تقریب کل شام 5.30 بجے آزاد میدان میں ہوگی۔سی ایم، ڈپٹی سی ایم (وزیر اعلی، نائب وزیر اعلی) کے معاملے پر، انہوں نے کہا، “یہ صرف تکنیکی معاملات ہیں۔ ہم نے پچھلے ڈھائی سالوں میں ایک ساتھ کام کیا ہے ۔ مستقبل میں بھی ہم سب مل کر ایک اچھی حکومت دینے کی کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مہاوتی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں اور ریاست کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے اپنے عزم کو پورا کرے گی۔ انہوں نے پارٹی کی دوبارہ قیادت کرنے کا موقع ملنے پر وزیر اعظم، قومی صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ‘‘میں رام داس اٹھاولے ، راج ناتھ سنگھ، نتن گڈکری اور اعلیٰ قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔’’نائب وزیر اعلیٰ کے حلف کے موقع پر پوچھے گئے ایک سوال پر پوار نے مزاحیہ لہجے میں کہا کہ کوئی لے رہا ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے ۔ ان لوگوں کا شام تک طے ہوگا لیکن میں تو کل حلف لے رہا ہوں یہ طے ہے ۔ اس پر شندے نے اسی لہجے میں کہا، ‘‘اجیت دادا کو دن میں اور شام کو حلف لینے کا تجربہ ہے ۔’’فڈنویس نے کہا، ”ہم تین لیڈر ایک ہیں۔ اور کون کون حلف اٹھائے گا یہ شام تک بتا دیا جائے گا۔ میں نے ایکناتھ جی سے حکومت میں شامل ہونے اور ڈپٹی سی ایم بننے کی درخواست کی تھی۔شندے نے کہا- “ہم نے وعدہ کیا تھا کہ جو بھی فیصلہ لیا جائے گا، میں اس کی حمایت کروں گا۔ میں نے یہی کیا ہے ۔ مہاوتی کو اتنی بڑی اکثریت کبھی نہیں ملی تھی، یہ تاریخی ہے ۔ شکریہ بہنوں اور بھائیوں۔ یہ سوال نہیں ہے کہ مجھے کیا ملا، مہاراشٹراا کو کیا ملا، ہمارے ذہن میں یہی احساس تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہاوتی میں کوئی اونچ نیچ نہیں ہے ۔ فڈنویس گھر آئے ، یہ ان کی عظمت ہے ۔ قبل ازیں فڈنویس کو چہارشنبہ کو یہاں بی جے پی لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں لیڈر منتخب کیا گیا۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بی جے پی کے مرکزی مبصر کے طور پر میٹنگ میں موجود تھے ۔حال ہی میں ختم ہونے والے مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتنے کے بعد، مہاوتی کی حکومت مسلسل دوسری بار بننے جا رہی ہے ۔ ریاستی بی جے پی لیڈر سدھیر منگنٹیوار نے کہا کہ مہاوتی لیڈرسہ پہر 3.30 بجے گورنر سے ملاقات کریں گے اور فڈنویس کی قیادت میں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کریں گے ۔ اس سے پہلے اسمبلی کی عمارت میں مہاوتی کے منتخب اراکین کی میٹنگ بلائی گئی ہے ۔ وہاں سے اتحاد کے رہنما راج بھون کے لیے روانہ ہوں گے ۔مہایوتی میں شامل شیو سینا کے رہنما اور سبکدوش ہونے والے وزیر اعلی شندے اور این سی پی لیڈر پوار نے پہلے ہی بی جے پی کے وزیر اعلی کے ساتھ یکجہتی میں کام کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔مرکزی مبصرین کی موجودگی میں بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں بی جے پی لیڈران چندرکانت پاٹل اور منگنٹیوار نے پارٹی کے 132 ایم ایل ایز کے سامنے فڈنویس کے نام کی تجویز پیش کی جسے پنکجا منڈے اور دیگر کئی ایم ایل اے نے منظوری دے دی۔ روپانی نے ایم ایل اے سے کہا کہ اگر ان کے ذہن میں کسی اور کے نام کی تجویز ہے تو پیش کیرں، لیکن تمام ایم ایل اے نے متفقہ طور پرفڈنویس کے نام پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد فڈنویس کو لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کیا گیا۔لیڈر کے طور پر منتخب ہونے کے بعد سیتا رمن، روپانی، پاٹل، منگنٹیوار، بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ونود تاوڑے وغیرہ نے فڈنویس کو مبارکباد دی اور انہیں ریاست کا وزیر اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی۔ مسٹرفڈنویس نے بھی شائستگی سے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔ذرائع کے مطابق کل فڈنویس کے ساتھ شیوسینا اور این سی پی کے ایک ایک رکن بھی نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا سکتے ہیں۔مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں 288 سیٹوں میں سے مہاوتی کو 230 سیٹیں ملی ہیں، جن میں سے بی جے پی نے 132 سیٹیں جیتی ہیں، تو شندے کی قیادت والی شیوسینا کو 57 سیٹیں اور پوار کی این سی پی کو 41 سیٹیں ملی ہیں۔ اس طرح بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اور اس بار بی جے پی کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ ملنا فطری ہے ۔1970 میں 22 جولائی کو پیدا ہوئے فڈنویس 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور شیوسینا کی جیت کے بعد پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے تھے ۔ وہ پچھلی شندے حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ تھے ۔ وہ 2019 سے 2022 تک اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رہے ۔