کرناٹک ‘ ٹاملناڈو ‘ ہریانہ : مہاراشٹرا اور کیرالا کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ۔ چھوٹی ریاستوں میں دہلی کو پہلا مقام
حیدرآباد 16 دسمبر ( سیاست نیوز) : ریزرو بینک آف انڈیاسے جاری تازہ ہینڈ بک آف اسٹیٹکس آن انڈین اسٹیٹس 2024-25 کے مطابق فی کس آمدنی کے لحاظ سے تلنگانہ ملک میں سرفہرست ریاست بن کر ابھری ہے ۔ 3,87,623 روپئے کی فی کس آمدنی کے ساتھ تلنگانہ نے کئی صنعتی ترقی یافتہ ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جن میں کرناٹک ، ٹاملناڈو ، ہریانہ ، مہاراشٹرا اور کیرالا شامل ہیں جو ریاست کی مضبوط اقتصادی رفتار کو واضح کرتا ہے ۔ ڈالر کے لحاظ سے تلنگانہ کی فی کس آمدنی 4,295 ڈالر ہے ۔ جو 2,777 ڈالر کی قومی فی کس آمدنی سے زیادہ ہے ۔ یہ عالمی بینک کی آمدنی کی درجہ بندی کے مطابق اوپری مڈل گروپ ( 4,496 ڈالر سے 13,935 ڈالر ) میں گریجویشن کے کنارے پر ہے ۔ بڑی ریاستوں میں تلنگانہ ، کرناٹک سے 3,08,906 روپئے ، ٹاناڈو 3,61,619 روپئے ، ہریانہ 3,53,182 روپئے ، مہاراشٹرا 3,09,340 روپئے اور کیرالا 3,08,338 روپئے پر آگے ہیں ۔ تاہم دہلی میں چھوٹی ریاست کے طور پر درجہ بندی میں ملک میں سب سے زیادہ فی کس آمدنی 4,93,024 روپئے ریکارڈ کی گئی ۔ آر بی آئی اعداد و شمار نے تلنگانہ کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار میں تیزی سے اضافہ دکھایا جو کہ 2024-25 میں بڑھ کر 16.41 لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گیا ۔ جس سے ریاست کو قومی سطح پر چھٹا مقام حاصل ہوا ۔ مہاراشٹرا 45.32 لاکھ کروڑ روپئے کے جی ایس ڈی پی کے ساتھ سرفہرست ہے ۔ اس کے بعد یوپی 29.78 لاکھ کروڑ روپئے ، کرناٹک 28.84 لاکھ کرور روپئے ، مغربی بنگال 18.15 لاکھ کروڑ اور راجستھان 17.04 لاکھ کروڑ پر ہے ۔ 2024-25 مالیاتی سال چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زیر قیادت کانگریس حکومت کے تحت حکمرانی کا پہلا مکمل سال تھا جس نے دسمبر 2023 میں عہدہ سنبھالا تھا ۔ اس مدت کے دوران بہتر معاشی اشاریوں کو نئے نظام کے حوصلے بڑھانے کے طور پر دیکھا گیا ۔ 2023-24 میں جب پچھلی بی آر ایس حکومت سال کے بیشتر حصے میں برسر اقتدار تھی ۔ تلنگانہ کی جی ایس ڈی پی 14,61,835 کروڑ روپئے تھی ۔ کانگریس حکومت کے تحت یہ رقم بڑھ کر 16,40,901 کروڑ روپئے تک پہنچ گئی ۔ جو ایک سال میں 1.79 لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے ۔ عہدیداروں نے نوٹ کیا کہ زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں ، کانکنی ، مینوفیکچرنگ ، افادیت و تجارت سے متعلقہ خدمات سمیت کلیدی شعبوں میں ترقی ریکارڈ کی گئی جو کسی ایک شعبے پر انحصار کے بجائے متوازن توسیع کی تجویز کرتی ہے ۔ فی کس آمدنی میں 2023-24 میں 3,47,414 روپئے سے 2024-25 میں 3,87,623 روپئے تک اضافے نے معاشی بہتری کی رفتار کو مزید اجاگر کیا ۔ محکمہ خزانہ کے عہدیداروں نے اس کارکردگی کو فلاح و بہبود سے چلنے والی حکمرانی اور ترقی پر مسلسل توجہ دینے کو قرار دیا ۔۔ ش