حیدرآباد پبلک اسکول کو ہائی کورٹ کی ہدایت، آن لائن کلاسیس روکنا طلبہ کے تعلیمی حق سے محروم کرنا ہے
حیدرآباد۔/6جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرآباد پبلک اسکول کے انتظامیہ سے سوال کیا کہ فیس کی عدم ادائیگی کی صورت میں طلبہ کی آن لائن کلاسیس کس طرح روکی جاسکتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اس طرح فیس کی عدم ادائیگی کے نام پر آن لائن کلاسیس روکنا طلبہ کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ حکومت کے قواعد کے برخلاف فیس وصول کرنے کی شکایت کرتے ہوئے ایکٹیو پیرنٹس فورم کی جانب سے درخواست دائر کی گئی۔ حیدرآباد پبلک اسکول کی دونوں برانچس میں زائد فیس کی وصولی کی شکایت کی گئی۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گذار کے وکیل نے بتایا کہ حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیس کی عدم ادائیگی پر 219 طلبہ کو آن لائن کلاسیس روک دی گئی ہیں۔ اسکول کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 10 فیصد اضافہ کو واپس لیا گیا ہے اس کے علاوہ فیس میں 10 ہزار روپئے کی رعایت دی جارہی ہے۔ فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے کہا کہ کورونا وباء کے پیش نظر اسکولوں کو طلبہ کے ساتھ انسانیت کا رویہ اختیار کرنا چاہیئے۔ عدالت نے کہا کہ فیس کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جانا چاہیئے۔ عدالت نے کہا کہ فیس کو بنیاد بناکر آن لائن کلاسیس کو نہ روکا جائے۔ اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 13 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی کے اجلاس پر رامنتا پور اور بیگم پیٹ میں واقع حیدرآباد پبلک اسکول میں حکومت کے احکامات کے برخلاف فیس وصول کرنے کے معاملہ کی سماعت ہوئی۔ درخواست گذار نے شکایت کی کہ گزشتہ 17 دنوں سے 219 طلبہ کیلئے آن لائن کلاسیس کو بند کردیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فیس کے نام پر طلبہ کے تعلیم کے حق کو متاثر نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے آن لائن کلاسیس تمام طلبہ کیلئے جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس نے 219 طلبہ کیلئے بھی آن لائن کلاسیس بحال کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے سوال کیاکہ غیر منفعت بخش بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کی جانب سے کارپوریٹ اداروں کی طرح رویہ اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔ عدالت نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی کہ طلبہ سے وصول کردہ فیس کی تفصیلات پیش کی جائیں۔