فیس کی عدم ادائیگی پر آن لائین کلاسس سے طلبہ کو محروم نہ رکھیں

   

تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت، اسکولوں کے خلاف سرپرستوں کی درخواستیں
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے خانگی اسکولوں کو جاریہ تعلیمی سال فیس میں اضافہ کے خلاف انتباہ دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر خانگی اسکولس حکومت کے احکامات کے مطابق فیس میں اضافہ سے گریز نہیں کریں گے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے فیس کی عدم ادائیگی کی صورت میں آن لائین کلاسس سے طلبہ کو محروم کرنے کی مخالفت کی ہے۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے بعض سرپرستوں کی درخواست کی سماعت کی ۔ اولیائے طلبہ نے اپنی درخواست میں بعض خانگی اسکولوں کی جانب سے زائد فیس کی وصولی کی شکایت کی ہے۔ درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا کہ فیس کی عدم ادائیگی پر طلبہ کو آن لائین کلاسس سے محروم کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اسکولوں کی جانب سے کیاپیٹیشن فیس اور ٹیوشن فیس کا علحدہ علحدہ مطالبہ کیا جارہا ہے جو حکومت کے جی او 46 کی خلاف ورزی ہے۔ قبل ازیں ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے اس معاملہ میں اولیائے طلبہ کو 50 فیصد فیس ادا کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ ڈیویژن بنچ نے اسکولوں کو ہدایت دی کہ وہ آن لائین کلاسس سے طلبہ کو محروم نہ رکھیں۔ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور محکمہ تعلیم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت 9 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔