دوبارہ ہڑتال کی غلطی نہ کرنے کا مشورہ ۔ مرکزی حکومت نزاعی مسائل کو ہوا دے رہی ہے ۔ اسمبلی میں جواب
حیدرآباد۔15مارچ(سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے فیلڈ اسسٹنٹ کی خدمات کو بحال کرنے کا اسمبلی میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ اسسٹنٹ ہڑتال کی غلطی دوبارہ نہ کریں۔ چیف منسٹر نے تصرف بل مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مرکز کی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک کے اقتصادی و معاشی حالات کیلئے مرکزی حکومت ذمہ دار ہوتی ہے اور کسی حد تک ریاستوں کو اختیارات ہیں۔ انہوں نے ملک کی موجودہ حالت کے لئے مرکز کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی بجٹ میں نمبروں کے ساتھ کھلواڑ کرکے گمراہ کن بجٹ کی پیشکشی کا رجحان فروغ پانے لگا ہے۔ چیف منسٹر نے پارلیمانی جمہوریت کے استحکام کے علاوہ ایوانوں کی کاروائی کو بہتر اور پختہ کرکے جمہوریت کو مستحکم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ حکومت نے تلنگانہ کی ترقی کیلئے جو بجٹ تیار کیا ہے اس کی سراہنا کی جا رہی ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کے بجٹ کو حقیقت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں فراہم رقومات کے استعمال کے ذریعہ مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اسی لئے ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں بجٹ کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے ریاست میں آبپاشی پراجکٹس اور زرعی پراجکٹس کو فروغ دینے حکومت کی پالیسی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ حکومت سے بجٹ کی تیاری کے دوران تمام طبقات اور ترقیاتی امور کو نظر میں رکھا گیا ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں جو ماحول پیدا کیا جا رہا ہے وہ معیشت کیلئے مضر ہے انہوں نے کرناٹک میں حجاب تنازعہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے حالات پیدا کرنے پر ملک میں سرمایہ کاری کو نقصان کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مرکز سے ریاستوں کی ترقی کو نظرانداز کئے جانے کی شکایت کی اور کہا کہ مرکز ریاستوں کے اختیارات کو کم کرنے کوشاں ہے۔ چیف منسٹر نے مرکزی حکومت پر ملک میں وفاق کے رجحان کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو معیشت میں مستحکم ہوسکتی ہے لیکن فی الحال مرکزی حکومت کی جانب سے ایسا کرنے کی بجائے غیر اہم اور متنازعہ امور پر توجہ دے ا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا تلنگانہ کی کارکردگی کی ستائش کررہا ہے۔ چندر شیکھر راؤ نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں ایسی ریاستیں جو قرض میں ڈوبی ہوئی ہیں ان میں تلنگانہ کا نمبر 25واں ہے اورتلنگانہ کی اسکیمات ممکنہ حد تک شفافیت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔انہو ںنے بتایا کہ مرکزی حکومت 58.5 فیصد قرض حاصل کر رہی ہے جبکہ ریاستوں کو اتنا قرض حاصل کرنے کی ضرور ت نہیں ہے اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں 25 فیصد قرض حاصل کیا جا رہاہے۔ چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے 152لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کیا ہے جس سے ملک کی معیشت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں عرصہ دراز سے زیر التواء ملازمین کی ترقی کے اقدامات کو بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔م