فینانس اور پنچایت راج سکریٹریز کو حاضرِ عدالت ہونے کی ہدایت

   

۔26 مارچ کو سماعت، صفائی عملے کو تنخواہوں سے متعلق احکامات پر تین سال سے عمل آوری نہیں، ہائی کورٹ کی برہمی

حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے سرکاری عہدیداروں کے تساہل پر برہمی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے محکمہ جات فینانس اور پنچایت راج کے پرنسپال سکریٹریز کو 26 مارچ کو حاضرِ عدالت ہونے کی ہدایت دی ہے۔ مارچ 2018 میں ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عمل آوری نہ کئے جانے پر یہ احکامات جاری کئے گئے۔ پرنسپال سکریٹریز کے رام کرشنا راؤ ( فینانس ) اور وکاس راج ( پنچایت راج ) کو ہدایت دی گئی کہ پنچایت راج اسکولوں میں اقل ترین تنخواہوں پر عمل آوری نہ کرنے کی وجوہات بیان کریں۔ عدالت نے 15 مارچ 2018 کو صفائی عملے کو اقل ترین تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عہدیداروں کے رویہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ نے کہاکہ دونوں عہدیداروں کو ان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ کی مکمل یکسوئی تک سماعت کے دوران عدالت میں حاضر رہنا چاہیئے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ صفائی عملے کو طئے شدہ اقل ترین پے اسکیل ادا کیا جائے۔ کئی سوئپرس جنہیں عارضی طور پر خدمات کیلئے حاصل کیا گیا تھا لیکن انہیں فل ٹائم کام کرنے کیلئے پابند کیا گیا۔ انہیں امید ہے کہ عدالت کے احکامات پر عمل آوری سے راحت ملے گی۔ بتایا جاتاہے کہ کئی صفائی عملہ کے ارکان کو ریگولر عملے کے مقابلہ ایک چوتھائی تنخواہ بھی حاصل نہیں ہورہی ہے۔ محمد قاسم اور دیگر 45 پارٹ ٹائم سوئپرس کا تعلق ورنگل، نلگنڈہ، وقارآباد، سوریا پیٹ اور دیگر اضلاع سے ہے جنہوں نے دیگر ملازمین کی طرح تنخواہوں کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ جب کام یکساں ہے تو پھر تنخواہ بھی یکساں دی جانی چاہیئے۔ درخواست گذاروں کے وکیل نے سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ورکرس کے درمیان تنخواہوں میں امتیازی سلوک ٹھیک نہیں ہے۔ عدالت نے پارٹ ٹائم صفائی عملے کے حق میں فیصلہ دیا تھا لیکن گذشتہ تین برسوں سے عہدیداروں نے عمل نہیں کیا۔ درخواست گذاروں نے کہا کہ مختلف محکمہ جات جیسے بہبودی خواتین و اطفال میں ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کی جارہی ہے لیکن پنچایت راج محکمہ عمل آوری میں ناکام ہے۔ عدالتی احکامات پر عمل آوری میں تساہل کے نتیجہ میں حالیہ عرصہ میں کئی سینئر عہدیداروں کو ہائی کورٹ کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جسٹس رامچندر راؤ نے دونوں عہدیداروں کو سمن جاری کیا اور 26 مارچ کو حاضرِ عدالت ہونے کی ہدایت دی۔ بتایا گیا ہے کہ پنچایت راج اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے صفائی عملے کو محض 1650 سے 4000 روپئے ماہانہ ادا کئے جارہے ہیں۔