فیکلٹی کے تقررات میں تاخیر سے یونیورسٹیز میں تعلیم متاثر

   

حیدرآباد ۔ 22 جنوری (سیاست نیوز) یونیورسٹیز میں سہولتوں کے فقدان، مختلف شعبوں میں فیکلٹی ممبرس کے تقررات میں غیرمعمولی تاخیر کی وجہ سے یونیورسٹیز میں طلبہ کی تعلیم پر مضراثرات مرتب ہورہے ہیں۔ تعلیمی معیار اور ریسرچ سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ ریاستی حکومت ایسا معلوم ہوتا ہیکہ یونیورسٹیز میں مختلف شعبوں میں تقررات کرنے سے گریز کررہی ہے۔ جبکہ صدی قدیم شہرت یافتہ عثمانیہ یونیورسٹی میں تعلیم معیار متاثر ہورہا ہے۔ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد نئی ریاست تلنگانہ میں حکومت نے یونیورسٹیز میں فیکلٹی ممبرس کے تقررات کیلئے نئے طریقہ کو شروع کرنے کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور قدیم طریقہ کو بدلتے ہوئے اسے مسائل بھرا قرار دیا تھا۔ اس کمیٹی نے بہار، یوپی اور دیگر ریاستوں کی یونیورسٹیز میں پائے جانے والے طریقوں کا مطالعہ کیا اور کمیٹی کی تشکیل کے چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ داخل کی۔ اس نے اس سلسلہ میں حکومت سے سفارش کی کہ یونیورسٹیز میں فیکلٹی کے تقررات ٹی ایس پی ایس سی یا اسپیشل بورڈ کے ذریعہ کئے جائیں یا پھر یہ کام یونیورسٹیز کو تفویض کیا جائے لیکن حکومت نے ہنوز اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے جس کے نتیجہ میں یونیورسٹیز میں ہزاروں عہدے مخلوعہ ہیں۔ 2017ء میں مختلف یونیورسٹیز میں 1061 پروفیسرس، اسوسی ایٹ پروفیسرس، اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات کیلئے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ تقررات کا عمل کس طرح ہو اس کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی بنائی گئی اور رکروٹمنٹ روک دیا گیا۔ بیروزگار افراد نے اس احساس کا اظہار کیا کہ حکومت نے انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ یونیورسٹیز میں فیکلٹی ممبرس کی شدید قلت کو اگر پرانے طریقے کے مطابق جائیدادوں پر تقررات کئے جاتے تو بڑی حد تک دور کیا جاسکتا تھا۔ بیروزگار افراد نے افسوس کے ساتھ کہا کہ حکومت نے گذشتہ پانچ سال سے کوئی تقررات کئے بغیر اعلامیہ کو مسنوخ کردیا۔ دراصل یونیورسٹیز میں تدریسی اسٹاف (اساتذہ کی 1869 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ماہرین تعلیم کا احساس ہیکہ اس سے یونیورسٹیز میں گیسٹ فیکلٹی ممبرس کے طور پر برسرکار افراد کو کچھ مہلت ملے گی اور بیروزگار افرادکو امید کی کرن۔ فیکلٹی ممبرس کی قلت کی وجہ طلبہ یونیورسٹیز میں داخلے حاصل کرنے سے گریز کررہے ہیں جس کی وجہ تعلیمی معیار میں گراوٹ آرہی ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے ہاسٹلس کی حالت خستہ ہوگئی ہے۔ ٹائلٹس اور باتھ رومس میں دروازے نہ ہونے کی وجہ طلبہ کو مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے میں ریاستی حکومت کوٹھی ویمنس کالج کو اپ گریڈ کرتے ہوئے مہیلا یونیورسٹی میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ ماہرین تعلیم اور دانشوروں کا یہ خیال ہیکہ تقررات اور سہولتوں کے بغیر ایک نئی یونیورسٹی شروع کرنا کوئی فائدہ مند نہیں ہے۔ ماہرین تعلیم کا احساس ہیکہ چیف منسٹر کو ریاست میں 11 یونیورسٹیز میں مخلوعہ جائیدادوں کو پُر کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ اسوسی ایٹ پروفیسرس کیلئے 1,532 منظورہ پوسٹس میں 682 کام کررہے ہیں اور 950 خالی ہیں۔ اسسٹنٹ پروفیسرس کے 910 منظورہ پوسٹس میں 129 کام کررہے ہیں اور 781 خالی ہیں۔