قابض دشمن کیلئے فلسطین میں کوئی جگہ نہیں: اسماعیل ھنیہ

   

مزاحمت جاری رہے گی‘عالمی برادری سے ذمہ داری نبھانے کا مطالبہ

دوحہ:حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی انسانی، اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے قابض دشمن کے جنگی جرائم کو ختم کر یں اور اس پر سیاسی، قانونی اور اخلاقی کارروائی کرے۔ ذرائع ابلاغ غزہ جنگ اور نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ھنیہ نے کل شام ایک بیان میں کہا کہ قابض دشمن کی طرف سے کیے جانے والے قتل عام اس صورتحال کا اظہار ہیں کہ قابض ریاست اور اس کی زمینی افواج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور صہیونی ریاست فلسطینی مزاحمت کی وجہ سے مشکل میں ہے۔ انہوں نے ہاسپٹلس کو منظم نشانہ بنانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تازہ ترین جارحیت میں الشفاء ہاسپٹل کے گیٹ پر بمباری کی گئی جس میں زخمیوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ القدس ہاسپٹل اور انڈونیشی ہاسپٹل کے آس پاس کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفاکیت جو کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے نئے دورے کے موقع پر ہوئی امریکہ کی اسرائیل کو فلسطینیوں پر کلین چٹ دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مزاحمت قوم کا پوری طاقت کے ساتھ دفاع کرتی رہے گی اور پوری شدت کے ساتھ دشمن کے حملوں کو روکے گی۔ ہماری زمین پر قابض دشمن کیلئے کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ زخمیوں اور ہاسپٹلس میں قتل عام کے پیش نظر ہنیہ نے مصر کے بھائیوں پر زور دیا کہ وہ رفح کراسنگ کو مکمل طور پر کھول دیں اور اس میں رکاوٹ ڈالنے والی تمام وجوہات دور کریں۔ انہوں نے عرب اور اسلامی عوام اور دنیا کے آزاد لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صیہونیوں اور ان کے اتحادیوں کے سامنے اس خونی جارحیت پر غصے کا اظہار کرتے رہیں۔