تھیٹر کی مایہ ناز شخصیت کو برسی کے موقع پر چیف جسٹس ہائی کورٹ اجل بھویان کا خراج
حیدرآباد 18 جون (سیاست نیوز) تھیٹر کی مشہور شخصیت قادر علی بیگ کو ان کی 39 ویں برسی کے موقع پر شہر کے ممتاز شخصیتوں نے بھرپور خراج عقیدت پیش کیا جنھوں نے 70 اور 80 کے دہوں میں متاثرکن ڈرامے پیش کئے تھے۔ ریڈیسن بلو پلازہ میں منعقدہ تقریب میں قادر علی بیگ مرحوم کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی منائی گئی۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اجل بھویان نے انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ’’ایک شہر کو اس کی تہذیب اور مایہ نام شخصیتوں سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا کام ہے کہ قادر علی بیگ صاحب نے 46 سال میں 46 ڈرامے کئے۔ وہ ہندوستان کی تہذیبی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ آج ہم انھیں سلام کرتے ہیں۔ اسمارٹ فونس کے اس زمانہ میں لائیو آرٹس جیسے تھیٹر عوام کو جوڑتا ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہاکہ انھوں نے گزشتہ سال شہر میں قادر علی بیگ کے نام سے موسوم فیسٹول میں چند بہترین ڈراموں کو دیکھا ہے۔ اس تقریب میں حکومت تلنگانہ کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومت کے مشیر اے کے خان نے کہاکہ ’’بیگ صاحب اپنے وقت سے آگے تھے۔ ایک مختصر وقت میں انھوں نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ بات قابل ستائش ہے کہ ان کے خاندان کے لوگ اور بیگم رضیہ کے زیرصدارت فاؤنڈیشن کی جانب سے ان کی میراث کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ ان کی جانب سے ہر سال منعقد کیا جانے والا تھیٹر فیسٹیول نہ صرف ایک کلچرل ایونٹ ہوتا ہے بلکہ حیدرآبادیوں کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ آئی ٹی سکریٹری جیش رنجن نے کہاکہ قادر علی بیگ کے نام سے قائم کئے گئے فاؤنڈیشن نے نہ صرف شہر میں بہترین ڈرامے پیش کئے بلکہ حیدرآبادی ہیرٹیج اور تھیٹر کو عالمی سطح پر پہنچایا۔ اس تقریب کے بعد ڈرامہ ’’سوانح حیات‘‘ پیش کیا گیا جو 17 ویں صدی کی گولکنڈہ کی ملکہ حیات بخشی بیگم کے بارے میں ہے جسے نور بیگ نے تحریر کیا ہے اور اس میں محمد علی بیگ نے اہم رول ادا کیا ہے۔ نوری ٹراویلس اینڈ ایم پی ایم گروپ کی جانب سے ریڈیسن بلو پلازہ حیدرآباد کے تعاون و اشتراک سے یہ یادگار شام پیش کی گئی۔