قاسم سلیمانی قتل پر عراق میں امریکی کارروائی پر بحث

   

بغداد : عراق میں تین جنوری 2020ء کو امریکی فوج کے ایک ڈرون حملے میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی برسی کے قریب آتے ہی ایرانی سیاسی حلقوں میں اس کارروائی کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ قاسم سلیمانی الحشد ملیشیا کے سابق نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے قتل کی پہلی برسی پر یہ بحث جاری ہے کہ امریکی ڈرون عراقی فضائی حدود میں کیسے داخل ہوا اور کس نے اسے ایسا کرنے دیا تھا؟اس سلسلے میں سابق عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی اور سابق وزیر اعظم عادل عبد المہدی کے مابین بحث چھڑ گئی۔ العبادی نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس ڈرون طیارے نے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی اور الحشد ملیشیا کے ڈپٹی کمانڈر المہندس پر حملہ کیا اسے عراقی حکومت کی طرف سے عراق کی فضائی حدود میں داخَل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔