واشنگٹن ۔ 8 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ایک ‘عفریت’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے قاسم سلیمانی کو ہلاک کر کے بہت سے جانیں بچائی ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ قاسم سلیمانی گذشتہ جمعے جب بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے اس وقت وہ ایک ’بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔‘تاہم صدر ٹرمپ ایران کے ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیے۔واضح رہے کہ منگل کو ایرانی حکام کے مطابق عراق میں امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی تدفین کے موقع پر بھگدڑ مچنے سے 50 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہوگئے تھے۔امریکی صدارتی اوول دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عراق کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کا انخلا ملک (عراق) کے لیے سب سے خراب چیز ہو گی۔ان کا یہ بیان ایک مکتوب کے بعد سامنے آیا ہے جس پر امریکی فوج نے عراق سے انخلا سے متعلق پیغام عراقی وزیر اعظم کو بھیجا تھا جبکہ بعدازاں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ مکتوب غلطی سے عراق کے وزیر اعظم کو بھیجا گیا تھا۔یاد رہے کہ پانچ جنوری کو عراق کی پارلیمان نے امریکی فوج کے ملک سے انخلا سے متعلق ایک قرار داد منظور کی تھی۔ جبکہ امریکی صدر نے ایسا کرنے پر عراق پر سخت پابندیوں کا کہا تھا۔صدر ٹرمپ نے امریکی ڈرون حملے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتقامی کارروائی ہے۔انھوں نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک عفریت تھا۔اور وہ اب کوئی عفریت نہیں رہا۔وہ مر گیا ہے۔ وہ ہمارے خلاف ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی اس کے بارے میں شکایت کرسکتا ہے۔‘صدر ٹرمپ شاید عراق کے کتائب حزب اللہ ملیشیا گروپ کے سربراہ ابو مہدی المہندس کی طرف اشارہ کر رہے تھے، جو قاسم سلیمانی کے ساتھ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ثقافتی مقامات کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس سے قبل انھوں نے عہد کیا تھا کہ اگر ایران انتقامی حملے کرتا ہے تو انھیں ’بہت تیز اور سختی سے نشانہ بنایا جائے گا۔‘لیکن اقوام متحدہ اور یہاں تک کہ ان کے اعلی معاونین نے بھی تسلیم کیا کہ اس سے امریکہ نے جن بین الاقوامی قوانین پر دستخط کیے ہیں ان کے منافی ہوں گے، اور دیگر ممالک اس کو جنگی جرم قرار دیتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مختلف قوانین کے مطابق‘ امریکہ کو ان ثقافتی مقامات کو نشانہ نہیں بنانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ اگر قانون یہی ہے تو، میں قانون کی پاسداری کرنا پسند کرتا ہوں۔‘عراق کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی وقت فوج واپس بلانا چاہیں گے لیکن ابھی ‘یہ صحیح وقت نہیں ہے۔‘اگر عراق سے فوج کے انخلا کا کہا گیا تو اس پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف تب ایسا کریں گے اگر امریکہ کو عزت و احترام نہ دیا گیا۔