قانون شہریت کیخلاف مجلس کی جمعہ کو احتجاجی ریالی

   

درمیانی شب پرچم کشائی و یوم جمہوریہ تقریب، صدر پارٹی کا خطاب

حیدرآباد۔5جنوری(سیاست نیوز) شہر میں ہفتہ کی دوپہر عوامی سروں کے سمندر کو دیکھتے ہوئے صدر مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی نے سنگاریڈی میں منعقدہ احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ مجلس کی جانب سے 10 جنوری بروز جمعہ بعد نماز جمعہ عیدگاہ میر عالم سے شاستری پورم تک احتجاجی ریالی نکالی جائے گی۔ انہو ںنے جلسہ میں اس بات کا اعلان کرنے کے دوران یہ بھی کہ 25اور 26 جنوری کی درمیانی شب تاریخی چارمینار کے دامن میں یوم جمہوریہ تقریب منعقد کی جائے گی اور پرچم کشائی عمل میں آئے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ صدر مجلس نے 10 جنوری کو منعقد کی جانے والی احتجاجی ریالی میں عوام کی کثیر تعداد کو جمع کرنے اور دیگر انتظامات کے سلسلہ میں ہدایات کے لئے 6 جنوری کو صبح 10:30 مجلس کے صدر دفتر پر ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل کے علاوہ کارپوریٹرس کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں پارٹی قائدین و کارکنوں کو مطلع کیا جاچکا ہے اور ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس اہم ترین اجلاس میں شرکت کو یقینی بنائیں اور پارٹی کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات کے مطابق کام کرتے ہوئے 10 جنوری کو عید گاہ میر عالم سے شاستری پورم تک منعقد کئے جانے والے مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے تیاریوں کا آغاز کردیں۔شہر حیدرآباد میں قانون ترمیم شہریت کے سلسلہ میںملین مارچ کے پر امن انعقاد نے ہر گوشہ پر جو دباؤ ڈالا ہے اس کے نتیجہ میں اب مختلف مقامات پر ریالیوں کے انعقاد کے متعلق غور کیا جانے لگا ہے۔ سیاسی سرپرستی و مداخلت کے بغیر شہر میں لاکھوں کی تعداد میں عوام کے سڑکوں پر نکل آنے اور پر امن انداز میں واپس ہوجانے سے پولیس بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی اور پولیس کے مختلف گوشوں کی جانب سے اس احتجاج کی سراہنا کی جا رہی ہے لیکن ساتھ ہی سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے بھی معمولی مقدمات کے اندارج کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ ان کے احکام کے پابند ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں جاری احتجاج کے دوران اب تک یہ سوال کیا جارہا تھا کہ حیدرآباد میں کیوں سکوت ہے تو حیدرآبادی عوام نے 4جنوری کو اپنے سکوت کو توڑتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ وہ تحریک کے دم توڑتے وقت اس میں نئی جان پیدا کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے اس ملین مارچ کے فوری بعد اب تک ریالیوں کے انعقاد کی مخالفت کرنے والوں نے بھی ریالی کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے۔