قبرستان درگاہ حضرت میر مومنؒ کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات

   

نئی کمیٹی کی عنقریب تشکیل، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا عوامی نمائندوں کے ساتھ دورہ
حیدرآباد۔ 19 ڈسمبر (سیاست نیوز) درگاہ حضرت میر مومنؒ سلطان شاہی کے قبرستان کے تحفظ اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے عوامی نمائندوں کے ساتھ دورہ کیا۔ انہوں نے قبرستان میں جھاڑیوں کی صفائی اور حصاربندی کی ہدایت دی تاکہ غیر مجاز قبضوں کو روکا جاسکے۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ جھاڑیوں کی صفائی کا کام فوری شروع کردیں تاکہ زیارت کے لیے آنے والے افراد کو دشواری نہ ہو۔ مقامی افراد نے صدرنشین وقف بورڈ کو قبرستان کے مسائل سے واقف کرایا اور کہا کہ سابق میں کمیٹی نے بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے قبروں کو محفوظ کردیا ہے اور تدفین کے لیے رقومات حاصل کی جارہی ہیں۔ وقف بورڈ نے سابقہ کمیٹی کو تحلیل کردیا ہے اور انتظامات فی الوقت وقف بورڈ کی راست نگرانی میں ہے۔ محمد سلیم نے مقامی افراد کو تیقن دیا کہ بہت جلد دونوں طبقات کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ قبرستان کی بہتر نگہداشت اور تحفظ ہوسکے۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہا کہ قبرستان میں تدفین کے لیے کسی کو رقم دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ صرف میر مومن بلکہ تلنگانہ کے کسی بھی قبرستان میں تدفین کے لیے رقومات حاصل نہیں کی جاسکتیں۔ اس سلسلہ میں وقف بورڈ سے شکایت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبرستان میں قبور کو محفوظ کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے اور اگر کوئی یہ کرتا ہے تو وقف بورڈ کمیٹی کے خلاف کارروائی کرے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تدفین کیلئے کسی کو رقم نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں میں تدفین کیلئے انتظامات دشوار ہوتے ہیں، ایسے میں غریبوں سے رقومات کا مطالبہ کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد کی نمائندگی پر وہ عوامی نمائندوں اور وقف بورڈ کے رکن نثار حسین حیدر آغا کے ہمراہ معائنے کیلئے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبرستان کی بہتر نگہداشت کے سلسلہ میں وقف بورڈ سے جو بھی تعاون درکار ہے، فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے صفائی کے کاموں کیلئے فی الفور رقم کی منظوری دی۔