تہران: ایران کے شمالی مشرقی شہر نیشابور میں پولیس نے 3 ایرانی خواتین کو گرفتار کرلیا جنہیں آن لائن ویڈیو میں قبرستان میں رقص کرتے دیکھا گیا تھا۔اخبار میں شائع کردہ ایرانی خبر رساں ادارے ’تنسیم نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ تین خواتین رضاوی خراسان صوبے میں نیشابور کے شہدا قبرستان میں رقص کر رہی ہیں۔پراسیکیوٹر کے حکم دیا کہ خواتین کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا جائے۔پراسیکیوٹر محمد حسینی کا کہنا تھا کہ ’اس عمل سے شہدا کے خاندان کے جذبات مجروح ہوئے، تینوں خواتین کو گرفتار کرلیا گیا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ تینوں خواتین نے ’سماجی روایت کے خلاف عمل کرنے پر شرمندگی کا اظہار کیا اور معافی مانگی‘۔خیال رہے ایران میں رقص کرنا جرم نہیں ہے تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کسی عوامی مقام یا انٹرنیٹ پر رقص کرتا ہے جیسے عوامی جرائم کے زمرے میں دیکھا جائے تو اسے قانون کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔