غیر مجاز قابضین کے خلاف کارروائی میں ناکامی، ہائی کورٹ میں مفاد عامہ درخواست کی سماعت
حیدرآباد : تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرآباد و رنگاریڈی میں قبرستانوں کے تحفظ اور غیر قانونی قبضوں کی برخاستگی کے سلسلہ میں وضاحت کے لیے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کو شخصی طور پر عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ حیدرآباد و رنگاریڈی نے قبرستانوں کی زبوں حالی اور ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں دائرکردہ مفاد عامہ کی درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت میں یہ ہدایت دی ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے کہا گیا کہ وہ 16 نومبر کو شخصی طور پر پیش ہوتے ہوئے ناجائز قبضوں کی برخاستگی اور قابضین کے لیے ایف آئی آر درج کرنے سے متعلق تفصیلات پیش کریں۔ واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے شکایت کی ہے کہ حیدرآباد و رنگاریڈی میں حالیہ کورونا وباء کے دوران میتوں کی تدفین کے لیے جگہ فراہم نہیں کی گئی اور وقف بورڈ نے قبرستانوں کے متولیوں اور کمیٹیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے بارہا ہدایت کے باوجود بورڈ کے حکام نے مقدمات دائر نہیں کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 723 قبرستانوں میں سے 86 پر ناجائز قبضے ہیں۔ وقف بورڈ نے چند ایک ناجائز قابضین کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ہے۔ وقف بورڈ نے قابضین کو نوٹسوں کی اجرائی میں بھی تساہل سے کام لیا۔ اس معاملہ کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو شخصی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کی جانب سے عدالت میں تفصیلات داخل کی گئیں لیکن عدالت نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو شخصی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔