غفلت و لاپرواہی کا وقت نہیں ۔ وجئے واڑہ میں جلسہ تلاشِ شب قدر ،مفتی عبدالفتاح عادل کا خطاب
وجئے واڑہ ۔10 اپریل ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے یہ ایسی لازوال کتاب ہے جو فصاحت و بلاغت کی شاہکار ہے دنیا کی کوئی انسانی کتاب یا تصنیف خواہ وہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے کتنی ہی اونچی سطح پر ہو اور علمی تحقیقات و انکشافات کی کتنی ہی عظیم دنیا اپنے اندر بسائے ہوئے ہو وہ اس کتاب ہدایت کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی نے اسی لیے پورے زور وقوت کے ساتھ فرمایا اور اگر تم اس کتاب کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اُتاری ہے تو کوئی ایک سورت اس جیسی تم بھی بنا لاؤ اور اپنے حمایتیوں کو بھی اللہ کے مقابلے میں بلا لو اگر تم سچے ہو (سورہ بقرہ آیت نمبر 23) اس طرح خالق کائنات کی طرف سے قرآن مجید کی شکل میں جو حقائق اور معارف اور علوم و حکمت کے خزانے جمع کر دیے گئے ہیں ان پر امتداد زمانہ کا کوئی اثر نہیں پڑ سکتا جس دور اور جس زمانے میں اس کا کوئی مطالعہ کرے گا تو اسے ایسا محسوس ہوگا کہ یہ کتاب اسی دور اور اسی زمانے کے لیے ہے یعنی وہ پچھلے ادوار کی جدت و ندرت اور تقاضوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے حال کی تمام رعنائیوں کو اپنے دامن میں لیے ہوئے اور مستقبل کے تمام تر تقاضوں کو صحرائی وسعت دیتے ہوئے ہر دور اور ہر زمانے کی کتاب معلوم ہوگی ۔ قرآن کریم میں جس طرح پچھلی امتوں کے واقعات موجود ہیں اسی طرح موجودہ زمانے کے لیے رہنمائی بھی پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہے اور آنے والے زمانے کے لیے ہدایات بھی ہیں اسی لیے دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ بلاشبہ قرآن کریم تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا معجزہ ہے یہ ایک کتاب ہدایت ہونے کے ساتھ ساتھ انقلابی کتاب بھی ہے کل اسی کتاب نے روئے زمین پر انقلاب برپا کیا تھا اور آج بھی اسی کے بدولت روئے زمین پر انقلاب پیدا ہو سکتا ہے ، ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی استاد جامعۃ البنات سعید آباد نے لبی پیٹ وجیواڑہ میں آخری طاق رات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا نے کہا کہ قرآن کریم میں جتنے احکام آئے ہیں وہ تمام احکام فطرت انسانی کے عین مطابق ہے عبادات کا معاملہ ہو یا معاملات کا ، معیشت کا معاملہ ہو یا معاشرت کا، نکاح و طلاق کا معاملہ ہو یا قانون وراثت کا ، جرم و سزا کا معاملہ ہو یا آپسی لین دین اور سیاست و حکومت کا قرآن مجید کا ہر حکم انسانی فطرت کے مطابق ہے ۔ آج دنیا کا ہر مذہب اور ہر قانون قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقے اس کے احکامات اور ہدایات پر عمل کرنے پر مجبور ہے مولانا نے اس موقع پر عوام الناس کو اس بات کی ترغیب دی کہ قرآن کے پیغام کو عام کیا جائے اس پر عمل کیا جائے اسے لوگوں تک پہنچایا جائے یہ ساری انسانیت کی ہدایت و رہبری کے لیے نازل ہوا ہے لہذا ساری انسانیت تک اسے پہنچانا چاہیے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے اب غفلت اور سستی اور کاہلی کا وقت نہیں ہے اب روزانہ کی بنیاد پر اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں کو پہنچانے کی ضرورت ہے ۔ مولانا نے کہا کہ قرآن کریم عمل کی کتاب ہے اور اللہ تبارک و تعالی نے اسے اپنی عملی زندگی میں اختیار کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے اگر واقعتا ملت اسلامیہ اس پر عمل پیرا ہو جائے تو آج جس طرح بے حسی طاری ہے وہ بے حسی طاری نہ ہو ، آج جس طرح مسلمان ایک دوسرے سے دور ہیں، ان کے درمیان دوریاں پیدا نہ ہوں۔ آج جس طرح فلسطین اور غزہ کے حالات سامنے ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا کے دیگر علاقے میں موجود مسلمان اس طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں ، اگر قرآن پر عمل کرنے والے ہوتے تو ہرگز یہ حال نہ ہوتا آج ملت اسلامیہ کے افراد میں بے چینی بے قراری کی کمی ہے ، اخوت و محبت کی کمی ہے ، آئیے عہد کیا جائے کہ اپنے اندر اخوت اسلامی پیدا کریں گے ، جرأت ایمانی پیدا کریں گے قرآن کی دعوت کو لے کر ہر گھر اور ہر در تک پہنچیں گے ، ہر ایک کے دل کو دستک دینے کی کوشش کریں گے ، عملی میدان میں قدم رکھیں گے اور اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے اس کے غلبے اور استحکام کے لیے اپنا اپنا رول ادا کریں گے اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین