آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی زیرِ نگرانی ملک میں ایک عرصے سے بحسن خوبی دار القضاء کا نظام چل رہا ہے’ جس سے ملک کی عدلیہ کا بار کافی حدتک ہلکا ہورہا ہے۔پورے ملک میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی زیر نگرانی اس طرح کا 86 جگہوں پر دار القضاء کا نظام چل رہا ہے۔ مغربی راجستھان کے ضلع جودھپور کے قصبہ پیپاڑ میں اس صوبہ کا چھٹویں دار القضاء کاقیام عمل میں آیاہے۔ اس موقع پر حضرت مولانا عتیق احمد صاحب بستوی کنوینر دار القضاء کمیٹی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ”کار قضاء ایک اہم ترین دینی فریضہ ہے،اس کے لئےدارالقضاء کا نظام مستحکم کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ عوامی سطح پر کوشش کرنی ہوگی۔ اور عوام الناس کو بیدار کرنا ہوگا کہ وہ اپنے تمام تر عائلی،ملی، سماجی اور دینی مسائل میں دارالقضاء سے رجوع کریں۔ آکولہ مہاراشٹر کے قاضی جناب مولانا اشفاق احمد صاحب نے فرمایا کہ ہماری شناخت شریعت مطہرہ پر عمل کرنے میں ہے۔ مولانا تبریز عالم صاحب آرگنائزر دار القضاء کمیٹی نے نظام قضاء کے قانونی وسماجی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے دارالقضاء کو ملک وسماج کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ دار القضاء ٹونک کے نگراں مولانا محمد عادل ندوی سمیت ملک اور صوبے کی متعدد اہم شخصیات نے بھی اس اہم اجلاس میں شرکت کی۔ اور عوام الناس کو دار القضاء کی اہمیت، افادیت، ضرورت، قانونی حیثیت اور اس کے فروغ و بقا کے تئیں حساسیت کی طرف توجہ دلائی۔خاص طور پر مفتی عادل ندوی ٹونکی نے نہایت بہترین انداز میں علاقے اور صوبے کے حالات پر روشنی ڈالی۔ اس دار القضاء کے لئے قاضی صداقت حسین صاحب سیتامڑھی کو حلف دلایا گیا۔ اس پروگرام میں اہلِ علم کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دار القضاء کے ناظم اور اس اجلاس کے میزبان قاضی رحمت اللہ صاحب قاسمی نے تمام علمائے کرام اور عوام الناس سبھوں کاتہہ دل سے استقبال کرتے ہوئے ان سب کا شکریہ ادا کیا۔ مفتی عبد السلام اندوری قاسمی نے اجلاس کی نظامت فرمائی۔ علاقے کے علمائے کرام میں مولانا شفیق قاسمی، مولانا احمد اللہ قاسمی، مولانا نصیر الدین قاسمی، مفتی ممتاز احمد قاسمی، قاری بشیر احمد، مفتی مجاہد قاسمی وغیرہ آخر تک شریک اجلاس رہے۔آخر میں حضرت مولانا مفتی عتیق احمد صاحب بستوی کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔