قطب شاہی مساجد کے تحفظ اور آباد کرنے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی مساعی

   

شہر کی تین تاریخی مساجد کا دورہ، مسجد شیخ پیٹ کی صفائی کا کام شروع کردیا گیا
حیدرآباد۔ 28 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے شہر اور مضافاتی علاقوں میں واقع تاریخی مساجد کے تحفظ اور انہیں آباد کرنے کی مساعی کے طور پر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی مدد سے قدیم مساجد کی صفائی اور تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج شہر کے 3 مختلف مقامات پر قطب شاہی دور کی قدیم اور تاریخی مساجد کا معائنہ کیا اور تعمیر و مرمت کے کاموں کا آعاز کیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب وقف بورڈ نے آر کیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت موجود مساجد کے تحفظ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں کئی مساجد ایسی ہیں جو فن تعمیر کے اعتبار سے بے مثال ہیں لیکن وہ حکام کی لاپرواہی کے سبب خستہ حالی کا شکار ہوچکے ہیں۔ محمد سلیم نے مسجد شیخ واقع شیخ پیٹ کا دورہ کیا اور جھاڑیوں کی صفائی کا کام شروع کردیا گیا۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈپٹی ڈائرکٹر بی نارائنا اور وقف بورڈ کے عہدیدار دورے میں شریک تھے۔ مسجد شیخ نوٹیفائیڈ وقف ہے اور گزٹ نمبر 26-C مورخہ یکم جولائی 1982ء سیریل نمبر 218 کے تحت درج ہے۔ جلت برسوں سے یہ مسجد غیر آباد ہے جس کے سبب جھاڑیوں میں گھر چکی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ کی نگرانی میں آج جیسے ہی جھاڑیوں کی صفائی کا کام شروع ہوا۔ مقامی افراد نے اعتراض جتایا۔ وہ مسجد کو دوبارہ آباد کرنے کی مخالفت کررہے تھے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے مقامی افراد کو بتایا کہ مسجد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ہے اور اسی محکمہ کی جانب سے صفائی کے کام انجام دیئے جارہے ہیں۔ لہٰذا کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔ محمد سلیم نے مسجد کی صفائی کے لیے باقاعدہ لیبر متعین کیا ہے۔ توقع ہے کہ بہت جلد مسجد میں نماز کا آغاز ہوجائے گا۔ مقامی مسلمانوں نے وقف بورڈ بالخصوص صدرنشین کی مساعی پر مسرت کا اظہار کیا۔ محمد سلیم نے گولکنڈہ اور گنبدان قطب شاہی کے تحت واقع قطب شاہی مساجد کا معائنہ کیا۔ کئی چھوٹی مساجد علاقے میں موجود ہیں جو غار آباد ہیں۔ انہوں نے آکیالوجیکل سروے کے عہدیداروں کو مساجد کے بہتر مینٹننس اور عوام کو نماز کی اجازت دینے کی خواہش کی۔ محمد سلیم نے گولف کورس گولکنڈہ کے علاقے میں مسجد مصطفی خان اور مسجد ملاخیالی کا معانہ کرتے ہوئے ان کے تحفظ کی ہدایت دی۔ یہ دونوں مساجد تاریخی نوعیت کے حامی ہیں جو 1984ء وقف گزٹ میں درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی مساجد قطب شاہی دور حکومت کی تعمیر کردہ ہیں۔ وقف بورڈ ان مساجد کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ محمد سلیم نے کہا کہ تلنگانہ میں جہاں کہیں بھی تاریخی مساجد ہوں گی مقامی افراد کی توجہ دہانی کی صورت میں وقف بورڈ ان کی مرمت اور آباد کرنے کے اقدامات کرے گا۔ حکومت کی مدد سے یہ قدم اٹھائے جائیں گے۔ محمد سلیم نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر کی زیر قیادت سکیولر حکومت ہے جو تمام مذاہب کا یکساں طور پر احترام کرتی ہیں۔ انہوں نے مساجد کے متولیوں اور منیجنگ کمیٹیوں کو مشورہ دیا کہ صفائی کا اہتمام کرتے ہوئے مقامی افراد کو نماز کی ادائیگی کی اجازت دیں۔