دوحہ ۔ قطر کی جانب سے کورونا وائرس کے خلاف لڑائی کے دوران بیماری کے پھیلاؤ کے بارے میں حقائق چھپانے کے الزام پر مبنی ایک رپورٹ نے اس خلیجی ملک میں ہونے والے 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے بارے میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹورنمنٹ کو قطر سے منتقل کرنے کے مطالبات کو 10 صفحات پر مشتمل دستاویزات کے اجرا کے بعد دوبارہ اجاگرکیا ہے جس کی تصنیف لندن میں مقیم مینجمنٹ کنسلٹنسی کارنرسٹون گلوبل ایسوسی ایٹ نے کی ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اگست 2020 کے وسط تک قطر آبادی کے لحاظ سے دنیا میں سب سے زیادہ کورونا انفیکشن کی شرح کا شکار ہوا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر میں فیفا پراجیکٹس پر کام کرنے والی ایک معروف تعمیراتی کمپنی کے ذریعے کروائے گئے ایک داخلی تحقیق نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ قطر میں کوویڈ19 سے مثاثر ہونے والے بہت سے مزدور مبینہ طور پر ہلاک ہوئے لیکن اس کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی۔ یہ خدشات انفیکشن کی تعداد اور شرح اموات کے مابین واضح تضاد کے بارے میں سوالات کے مطابق ہیں۔ مبینہ طور پر کورونا سے مرنے والوں کی لاشوں کو ان کے آبائی علاقے واپس بھیجنے کا حوالہ دیا۔ یہ عمل دنیا بھر میں صحت کے حکام کی سفارش کے خلاف ہے۔ اس میں یہ بھی تجویزکیاگیا ہے کہ قطری حکام کوویڈ 19 اموات کی غلط اطلاع دے رہے ہیں اوراس سے گلوبل ہیلتھ کیئر کیمونٹی کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔کارنرسٹون نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور برطانیہ کینیشنل ہیلتھ سروس کو مشاورتی خدمات فراہم کی ہیں۔ کمپنی نے 2010 میں قطر کو 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی دیے جانے کے بعد سے قطر کی میزبانی والے ورلڈ کپ کے عمل کی نگرانی کی ہے۔
اردن میں ہفتہ کے آخری ایام کا کرفیو
عمان ۔ اردن میں حکومت نے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہفتہ کے آخری ایام میں جمعرات رات 12 بجے سے 48 گھنٹے ملک کے تمام صوبوں میں کرفیو لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اسکائی نیوز کے مطابق ڈائریکٹرکورونا وائرس کرائسز منجمنٹ سیل بریگیڈیئر مازن الفرای نے کہا ہے کہ آئندہ وبا کی جیسی صورتحال ہوگی اسی طرح ہفتہ کے آخری ایام میںکرفیو لگایا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرفیو کے دوران کسی شہری کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ الیکٹرانک اجازت نامہ رکھنے والوں کو بھی استثنی نہیں ہوگا تاہم ڈاکٹر، نرسیں، معاون طبی عملہ کو آمد ورفت کی اجازت ہوگی۔ جزوی کرفیو روزانہ رات 12 بجے سے شروع ہوگا اور صبح 6 بجے تک جاری رہے گا۔ تمام دکانیں رات بارہ بجے بند ہوجائیں گی جبکہ شہریوں کے لیے مزید ایک گھنٹے کی اجازت ہوگی۔ اردنی حکام نے جمعے سے تا ہدایت ثانی اسکولوں میں حاضری بھی معطل کردی ہے۔پورے ملک میں چہارشنبہ کی صبح سے فوج کوکرفیو نافذ کرنے کے لیے تعینات کیا۔ ایسے علاقوں کی کڑی نگرانی ہوگی جہاں وبا سے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق اردن میں کورونا کے 1537 نئے مصدقہ مریض ہیں۔