قومی تعلیمی پالیسی پر عمل آوری میں ریاستوں کا تعاون ضروری

   

لڑکیوں کی شادی کی عمرمیں اضافہ کا خیرمقدم، عثمانیہ یونیورسٹی میں گورنر سوندرا راجن کا خطاب

حیدرآباد۔/22ڈسمبر، ( سیاست نیوز) گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے کہا کہ تلنگانہ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے ریاست میں اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع کی موجودگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ گورنر نے کہا کہ نئی ریاست ہونے کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں تلنگانہ کی ترقی قابل ستائش ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی پر عمل آوری کیلئے ریاستوںکو مرکز سے تعاون کرنا چاہیئے۔ گورنر آج عثمانیہ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس کا افتتاح کررہی تھیں۔ گورنر نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران انہوں نے قومی سطح پر تعلیمی پالیسی کے سلسلہ میں یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس اور ماہرین تعلیم سے آن لائن مشاورت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی پر عمل آوری کیلئے تمام وائس چانسلرس نے اپنی تجاویز پیش کیں۔ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ اور ٹاملناڈو میں قومی تعلیمی پالیسی پر عمل آوری کے سلسلہ میں پس و پیش پایا جاتا ہے۔ ریاستوں کو قومی تعلیمی پالیسی کے سلسلہ میں مرکز سے تعاون کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ وہ یونیورسٹیز کی جانب سے اس سلسلہ میں ریاستی حکومتوں سے خواہش کررہے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی عجلت میں تیار نہیں کی گئی ہے بلکہ طویل مشاورت اور ہر گوشہ سے تجاویز حاصل کرنے کے بعد قطعیت دی گئی۔ گورنر نے لڑکیوں کی شادی کی عمر کی حد 18 سے بڑھا کر 21 کرنے سے متعلق فیصلہ پر مرکزی حکومت کو مبارکباد پیش کی۔گورنر نے اعلیٰ تعلیم کے معیار میں اضافہ کی ضرورت ظاہر کی اور کہا کہ بہتر تعلیم کے ساتھ ریسرچ کو فروغ دیا جائے۔ آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے صدر نشین پروفیسر انیل ایس بڈھے، صدرنشین تلنگانہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن پروفیسر آر لمبادری، یونیورسٹی آف کرناٹک کے وائس چانسلر پروفیسر بی ستیہ نارائنا، وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی ڈی رویندر اور دوسروں نے خطاب کیا۔ر