کانگریس کی مرکزی حکومت پر تنقید‘ وزیر اعظم کی تقریر کے بغیر صدر کے خطبہ پرتحریک تشکر منظور
نئی دہلی ۔5؍فروری ( ایجنسیز )کانگریس نے لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک منظور ہونے کے بعد حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو چار دن تک ایوان میں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی سے متعلق ان کی بات سننا نہیں چاہتے تھے اسی لیے انہیں جان بوجھ کر روکا گیا۔لوک سبھا نے جمعرات کو اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے درمیان صدر کے خطاب پر شکریہ کی تجویز صوتی ووٹ سے منظور کر لی۔ پارلیمانی روایت کے مطابق اس تجویز پر بحث کے بعد وزیر اعظم ایوان میں جواب دیتے ہیں تاہم جاری تعطل کے سبب وزیر اعظم کا جواب لوک سبھا میں نہیں ہو سکا اور تجویز منظور کر لی گئی۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی پر کچھ بنیادی نکات اٹھانا چاہتے تھے مگر انہیں بولنے سے روکا گیا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ان باتوں کو سننا نہیں چاہتے تھے۔جے رام رمیش نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے دس جون دو ہزار چار کو اْس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی ایوان میں بولنے سے روکا تھا حالانکہ اس وقت صدر کے خطاب پر بحث مکمل ہو چکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال جمہوری روایات کے منافی ہے۔راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن ملکارجن کھرگے نے بھی اس معاملے کو اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دو ستون ہیں، ایک لوک سبھا اور دوسرا راجیہ سبھا۔ اگر ایک ستون پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرا ستون بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ کانگریس کے مطابق اس مسئلے پر اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور انہوں نے بطور احتجاج راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کیا۔لوک سبھا میں کانگریس کے وہپ اور موجودہ بجٹ اجلاس کی بقیہ مدت کیلئے معطل رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے کہا کہ ایوان میں دو آوازیں ہوتی ہیں، ایک حکمراں جماعت کی اور دوسری اپوزیشن کی مگر اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ اپوزیشن کو مؤثر انداز میں بات رکھنے کا موقع ملے۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سوچ ’من کی بات‘ تک محدود ہے جو ریڈیو پر ہو سکتی ہے، لیکن پارلیمنٹ میں قائد اپوزیشن کو بولنے کا حق حاصل ہے اور اس کے بعد وزیر اعظم جواب دیتے ہیں۔ ٹیگور کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ قائد اپوزیشن کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا اور وزیر اعظم نے بھی جواب نہیں دیا جو جمہوری نظام کے لیے افسوسناک ہے۔