لالچی تاجروں نے کورونا کو بھی منافع کا ذریعہ بنا لیا

   

Ferty9 Clinic

اسلام آباد۔ پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورت حال میں کووڈ 19 کے مریضوں کی ادویات اور طبی آلات یا تو مارکیٹ سے غائب ہو چکے ہیں یا پھر ان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بری طرح سے متاثر ہونے والے شہر لاہور میں نئی قسم کے کورونا وائرس کے متاثرین کو انفیکشن کی پیچیدگیوں کو کم کرنے کے لیے تجویز کی جانے والی ادویات کے حصول میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ دوا ساز اداروں کی ملی بھگت سے مارکیٹ میں کئی ایسے گروہ وجود میں آچکے ہیں جو معمولی قیمت پر ملنے والی ادویات، قلت کی وجہ سے کافی مہنگے داموں پر فروخت کر رہے ہیں۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما ڈاکٹر اشرف نظامی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ بعض لالچی تاجر لوگوں کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کے بقول بعض مفاد پرست عناصر، حکومت اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی ملی بھگت سے مصنوعی قلت پیدا کرکے مال بنا رہے ہیں اور حکومت ایسے عناصر کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ حکومت اگر چاہے تو اس بحران کو کنٹرول کر سکتی ہے لیکن معلوم نہیں وہ ایسا کیوں نہیں کر رہی۔