لانگ مارچ ملتوی، ٹھیک ہونے پر دوبارہ نکالنے کا اعلان : عمران خان

,

   

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان لوگوں نے وزیر آباد یا گجرات میں مجھے سلمان تاثیر کی طرح قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا،مگر اللہ نے محفوظ رکھا۔سابق وزیر اعظم نے شوکت خانم ہسپتال میں ریکارڈ کرائے جانے والے پیغام میں بتایا کہ صحت یاب ہوتے ہی دوبارہ لانگ مارچ کی کال دوں گا، البتہ تین لوگوں کا استعفیٰ آنے تک ملک گیر احتجاج جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے 4 گولیاں لگی ہیں، جو حملہ کیا گیا اس کی تفصیلات بعد میں بتاو?ں گا، اسٹیبلشمنٹ کو ملک میں سازش کے تحت تبدیلی لانے کی عادت ہو گئی ہے، لیکن اس مرتبہ قوم نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔

احتجاج جاری رہے گا، عمران خان

اسلام آباد : وزیرآباد میں فائرنگ کے واقعہ کے بعد پہلی مرتبہ کیے گئے اپنے خطاب میں چیئرمین پی ٹی آئی نے پاکستانی عوام سے کہا کہ وہ اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہ کریں اور اپنا احتجاج جاری رکھیں، کیونکہ احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے۔ لاہور کے شوکت خانم اسپتال میں وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے ستر سالہ سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رکھا جائے، جب تک ان پر حملہ میں ملوث افراد مستعفی نہیں ہو جاتے۔ اس سے پہلے انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور ایک سینئر سیکوریٹی افسر پر فائرنگ کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ تین لوگ اپنے عہدوں پر موجود رہتے ہیں اس وقت تک سانحہ وزیر آباد کی شفاف تحقیقات ممکن نہیں۔ عمران خان نے اعظم سواتی، شہباز گل اور صحافی جمیل فاروقی پر ہونے والے تشدد کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اعظم سواتی کو برہنہ کرکے ان پر تشدد کرنے والوں نے انہیں پیغام دیا کہ جا کر عمران خان کو بتانا کہ اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔ عمران خان نے الزام لگایا کہ ان کے ارکان اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کروانے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا گیا اور ان کے ملازمین کو ان کے خلاف جاسوسی کے لیے پیسے دینے کی پیشکش بھی کی گئیں۔ عمران خان نے ایسے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جو ان کے بقول ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے سانحہ وزیر آباد کی ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی لیکن سب ڈرتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی وفاقی پارٹی کے سربراہ کو بھی انصاف نہیں مل رہا۔

یوروپین یونین کی عمران خان پر حملہ کی شدید مذمت
برسلز: یورپین یونین نے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یوروپین دارالحکومت برسلز میں ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے یوروپین یونین کی خارجہ امور کی ترجمان نبیلا مصرالی نے کہا کہ ہم عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر قاتلانہ حملہ کی انتہائی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ترجمان نے حکومت پاکستان کی جانب سے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ تشدد کسی بھی شکل میں ہو وہ ناقابل قبول ہے اور اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ یورپین یونین کی خارجہ امور کی ترجمان نبیلا مصرالی نے اس موقع پر تمام فریقین پر زور دیا کہ انہیں دھمکیوں اور تشدد سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس واقعہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت و ہمدردی کرتے ہوئے ان کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ 3 نومبر کو پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جس میں پی ٹی آئی چیئرمین زخمی ہوئے تھے۔ واقعہ میں ایک شخص جاں بحق اور پی ٹی آئی چیئرمین و دیگر قائدین سمیت 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔ فائرنگ کرنے والے شخص کو بعد میں کنٹینر کے قریب سے پکڑ لیا گیا تھا جس نے عمران خان پر فائرنگ کا اعتراف بھی کیا۔

صدر عارف علوی نے عمران خان کی عیادت کی
اسلام آباد: پاکستان کے صدرِ ڈاکٹر عارف علوی نے شوکت خانم اسپتال میں عمران خان کی عیادت کی۔ عارف علوی نے دو روز قبل اپنے سوشل میڈیا بیان میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ اللّٰہ کا شکر ہے عمران خان محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی ٹانگ میں چند گولیاں لگنے سے وہ زخمی ہیں اور امید ہے کہ ان کی حالت نازک نہیں ہے۔