پولیس کی بھاری جمعیت بھی کارواں کے ساتھ محوسفر، پہلا دن متوفی صحافی ارشد شریف سے معنون، ہر طرف فیض کے ترانوں کی گونج
اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ جمعہ کی سہ پہر لاہور کے لبرٹی چوک سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔ اس لانگ مارچ میں بسوں، کاروں اور ویگنوں میں سوار لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہے۔ لانگ مارچ میں ملی نغموں اور فیض احمد فیض کے ترانے سنائی دے رہے ہیں۔ لانگ مارچ میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے کارکن موجودہ حکومت کے خلاف اور نئے انتخابات کے حق میں نعرہ لگا رہے ہیں۔ لانگ مارچ کے راستوں کو پی ٹی آئی کے جھنڈوں اور بینروں سے سجایا گیا ہے۔ لانگ مارچ کی حفاظت کے لیے پولیس کے دستے بھی کارواں کے ساتھ محو سفر ہیں۔ بعض گاڑیوں پر خواتین، بچے اور فیملیز بھی سوار ہیں۔ اس کارواں کی قیادت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کر رہے ہیں جبکہ ان کے کنٹینر پر پر اسد عمر، شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید سمیت دیگر پارٹی قائد بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ اس قافلہ میں 6 کنٹینر شامل ہیں جبکہ میڈیا کی گاڑیاں بھی اس کارواں کے ساتھ سفر کر رہی ہیں۔ اس رپورٹ کے فائل ہونے تک یہ کارواں لاہور کی فیروزپور روڈ تک پہنچا چکا تھا۔ پہلے دن لانگ مارچ لاہور میں ہی رہے گا۔ لبرٹی چوک سے شروع ہونے والا یہ لانگ مارچ اچھرہ، مزنگ، ایم او کالج، جنرل پوسٹ آفس چوک اور داتا دربار سے ہوتا ہوا آزادی چوک پہنچ رہا ہے۔ اس کارواں کا پہلا دن حال ہی میں ہلاک ہو جانے والے صحافی ارشد شریف کے نام کیا گیا ہے۔ بعض شرکاء کے ہاتھوں میں ارشد شریف کی تصاویر دکھائی دے رہی ہیں۔ لانگ مارچ کے آ غاز پر اپنی تقریر میں عمران خان نے پنجاب میں ارشد شریف شہید یونیورسٹی آف جرنلزم بنانے کا اعلان کیا۔ اس لانگ مارچ کے آغاز پر عمران خان نے پاک فوج کے سینئر افسران کے نام لے کر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور اسلام آباد میں متعین آئی ایس آئی کے دو افسران کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ حقیقی آزادی مارچ کے نام سے شروع کیے جانے والے اس لانگ مارچ کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ ملکی ادارے کمزور ہوں۔
عمران خان کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پرنوٹس جاری
اسلام آباد، 29 اکتوبر (یواین آئی) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کو این اے -45 کرم میں بار بار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر یکم نومبر کو طلب کر لیا ہے ۔ان کے علاوہ خیبرپختونخوا کے ایک وزیر کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے اور انہیں بھی یکم نومبر کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ انہیں نوٹس کے ذریعے متنبہ کیا گیا ہے کہ امیدوار کو نااہل قرار اور صوبائی وزیر کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن ایکٹ کے باب 10 کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ای سی پی کی جانب سے کارروائی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر (ڈی ایم او) عبدالرؤف خان کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کی گئی ہے ۔