حیدرآباد۔ ملک کی کئی ریاستوں میں کئے جانے والے لاک ڈاؤن اور رات کے کرفیو کے سبب صنعتی اداروں اور ان کی جانب سے حاصل کئے گئے قرض کی اقساط کی ادائیگی کے علاوہ تجارتی اداروں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اورکہا جار ہاہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا اور حکومت کو فوری قرض حاصل کرنے والے تاجرین اور صنعتی اداروں کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے اقساط کی ادائیگی میں سہولت کی فراہمی کے اقدامات کئے جانے چاہئے کیونکہ رات کے کرفیو کے علاوہ چند ایک ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے سبب تجارت اور صنعتیں متاثر ہونے لگی ہیں اور مزدوروں کے اپنے اپنے آبائی علاقوں کو واپسی کے سبب صنعتی اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔سال گذشتہ حکومت ہند کی جانب سے ملک بھر میںلاک ڈاؤن کے فیصلہ کے ساتھ ہی قرض کی اقساط ادا کرنے والوں کو سہولت کی فراہمی کیلئے موروٹوریم کا اعلان کیا گیا تھا اور اس موروٹوریم سے لاکھوں افراد نے استفادہ کیا تھا لیکن اب ملک کی بیشتر تمام ریاستوں میں رات کا کرفیو اور چندریاستوں میں مکمل لاک ڈاؤن اور ہفتہ کے آخری ایام میں لاک ڈاؤن کے سبب مسائل پیدا ہونے لگے ہیں اسی لئے مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا کو اس سلسلہ میں فوری اقدامات کرتے ہوئے قرض کی ادائیگی کے لئے مہلت کی فراہمی کے سلسلہ میں احکامات جاری کرنے چاہئے کیونکہ ایسا نہ کئے جانے کی صورت میں تجارتی برادری اور صنعتی ادارو ںکے علاوہ ان لوگوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو بینکوں اور خانگی اداروں سے قرض حاصل کئے ہوئے ہیں اور رات کے کرفیو کے علاوہ لاک ڈاؤن کے سبب ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔