لاک ڈاؤن سے مسلمانوں کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی، بعد فجر تجارتی سرگرمیوں کا آغاز

   

صبح جلد نیند سے بیداری، نماز فجر میں کثیر تعداد، مثبت تبدیلی پر بزرگ افراد میں خوشی کی لہر
حیدرآباد: کورونا وباء پر قابو پانے کیلئے تلنگانہ میں 12 مئی سے نافذ کردہ لاک ڈاؤن میں کئی شعبہ جات کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے لیکن پرانے شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن عوام کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی کا سبب بنا ہے۔ حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے اوقات صبح 6 تا 10 بجے مقرر کئے ہیں جس کے نتیجہ میں پرانے شہر کے عوام بالخصوص مسلمان فجر کے ساتھ ہی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ صبح جلد نیند سے بیداری اور 6 بجے سے قبل ہی بازار میں رونق دکھائی دے رہی ہے جبکہ پرانے شہر میں عام طور پر لوگوں کی صبح 10 بجے کے بعد شروع ہوتی ہے اور 11 بجے کے بعد دکانیں کھولی جاتی ہیں۔ واعظین اور علماء نے گزشتہ کئی دہوں تک مسلمانوں کیلئے علی الصبح بیداری کی کافی کوشش کی لیکن پرانے شہر میں نماز فجر میں مصلیوں کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے۔ اب جبکہ 12 مئی سے لاک ڈاؤن نافذ ہے ، مساجد میں فجر میں مصلیوں کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے اور نماز فجر کے ساتھ ہی لوگ تجارتی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں ۔ شہر کے بزرگ افراد لاک ڈاون سے پیدا شدہ اس خوشگوار تبدیلی پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کی برخواستگی کے بعد بھی مسلمانوں کو نماز فجر کی ادائیگی کے بعد تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کی روایت کو برقرار رکھنا چاہئے۔ بچپن میں مساجد کی تعلیم میں جو احادیث یاد دلائی جاتی ہے ، ان میں مشہور حدیث مبارکہ ہے کہ صبح کا سونا رزق کو روکتا ہے۔ اس حدیث پر عام حالات میں نہ سہی نہ صرف حیدرآباد بلکہ تلنگانہ کے مسلمان لاک ڈاون کے دوران عمل کر رہے ہیں۔ حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں بھی نماز فجر کے ساتھ ہی تجارت اور خرید و فروخت کا آغاز ہورہا ہے۔ صبح کے اوقات میں عام طور پر ہوٹلیں اور پان ڈبے کھلے نظر آتے تھے لیکن اب 6 بجے سے قبل ہی ہر شعبہ سے وابستہ شخص رزق کی تلاش میں گھر کے باہر نکل رہا ہے۔ لاک ڈاؤن میں بھلے ہی عوام کیلئے کئی مسائل پیدا کئے لیکن صبح جلد اٹھنے کی خوشگوار تبدیلی سے بازاروں میں بہتر ماحول دکھائی دے رہا ہے۔ صرف چار گھنٹوں میں تجارتی امور کی تکمیل کرتے ہوئے لوگ گھروں کو واپس ہورہے ہیں۔ جنرل اسٹور ، کرانہ شاپس ، ترکاری ، حجام ، میکانک ، گاڑیوں کے ڈیلنگ ایجنٹس ، گل فروش ، ویلڈنگ الغرض ہر پیشہ سے وابستہ افراد صبح 6 بجے سے اپنی خدمات کے ساتھ دستیاب ہے۔ شہر کے کئی علماء نے موجودہ تبدیلی کو مستحسن قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ لاک ڈاؤن کے اختتام کے بعد بھی مسلم نوجوان رات میں جلد سونے اور فجر سے رزق کی تلاش میں مصروف ہونے کو اپنی زندگی میں لازمی طور پر شامل کرلیں گے۔ طبی ماہرین کے مطابق رات کا جاگنا صحت کیلئے خطرناک ہے۔ انسان کو صحت مند زندگی بسر کرنے اور بیماریوں سے بچاؤ کے لئے رات میں جلد سونا اور صبح جلد اٹھنا چاہئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح کی دھوپ انسان کو کئی بیماریوں سے نجات دلاتی ہے۔ فجر کے ساتھ ہی بازاروں میں موجودہ چہل پہل اور مسلم نوجوانوں کا جلد بیدار ہونا کاش لاک ڈاون کے بعد بھی جاری رہے۔