بینکس اور اے ٹی ایم کھلے، شادیوں میں 40 اور تدفین میں 20ا فراد کی شرط
کورونا کی ادویات اور انجکشن کے حصول کیلئے کے ٹی آر کی قیادت میں ٹاسک فورس کی تشکیل،ریمیڈیسیور کمپنی سے چیف منسٹر کی بات چیت
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت نے 12 مئی سے ریاست بھر میں 10 روزہ لاک ڈاؤن کے علاوہ ریاست میں کورونا پر قابو پانے کیلئے مختلف اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر کی صدارت میں پرگتی بھون میں منعقدہ کابینی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 4 گھنٹوں تک صبح کے اوقات میں خرید و فروخت کی اجازت رہے گی جبکہ باقی 20 گھنٹوں میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل آوری کی جائے گی۔ ریاستی کابینہ کا اجلاس 20 مئی کو منعقد ہوگا جس میں صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لاک ڈاؤن کی توسیع سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ کابینہ نے ویکسین کو جنگی خطوط پر حاصل کرنے کیلئے گلوبل ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حکومت کے فیصلہ کے مطابق ہر شہری کو ویکسین دی جاسکے۔ کابینہ نے چیف سکریٹری سومیش کمار کو ہدایت دی کہ کورونا سے متعلق ادویات، آکسیجن اور انجکشن جیسے ریمیڈیسیور کی سرکاری اور خانگی دواخانوں میں دستیابی کو یقینی بنائیں۔ کابینہ نے تمام اضلاع میں ریاستی وزراء کی صدارت میں کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ کیا۔ ان کمیٹیوں میں کلکٹر، ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر، ڈرگ انسپکٹرس اور دیگر عہدیدار شامل رہیں گے۔ چیف منسٹر نے وزراء کو ہدایت دی کہ وہ ضلع کی سطح پر کورونا صورتحال کا روزانہ جائزہ لیں۔ چیف منسٹر نے کابینی اجلاس کے درمیان ریمیڈیسیور انجکشن کے مینو فیکچررس سے بات کی اور انہیں ریاست میں درکار تعداد کے مطابق انجکشن کی سربراہی کی خواہش کی۔ کابینہ نے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کی قیادت میں ٹاسک فورس کے قیام کو منظوری دی ہے جو ادویات اور انجکشنس کے حصول اور سربراہی کو یقینی بنائے گی۔ ٹاسک فورس کے دیگر ارکان میں پرنسپل سکریٹری انڈسٹریز جیش رنجن، پرنسپل سکریٹری جی اے ڈی وکاس راج، پرنسپل سکریٹری پنچایت راج سندیپ سلطانیہ، چیف منسٹر کے سکریٹری اور کورونا معاملات کیلئے چیف منسٹر آفس کے اسپیشل آفیسر راج شیکھر ریڈی شامل ہیں۔ کابینہ نے لاک ڈاؤن کے دوران مختلف سرگرمیوں کی اجازت اور پابندیوں سے متعلق فیصلہ کیا ہے۔ زرعی پیداوار اور اس کے مربوط شعبہ جات، رائس ملز، چاول اور دھان کی منتقلی، فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کو دھان کی سربراہی، فرٹیلائزرس اور سیڈس کی دکانات، سیڈ مینوفیکچرنگ کمپنیوں اور زراعت سے مربوط شعبہ جات کو لاک ڈاؤن سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ کابینہ نے کسانوں کی بھلائی کے تحت لاک ڈاؤن کے دوران دھان کی خریدی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیوں، طبی آلات تیار کرنے والی کمپنیوں، میڈیکل ڈسٹری بیوٹرس، میڈیکل شاپس اور دیگر میڈیکل و ہیلت خدمات کی اجازت رہے گی۔ سرکاری اور خانگی دواخانے اور ان کے اسٹاف کے علاوہ مذکورہ شعبہ جات کے ملازمین کو خصوصی پاسیس دیئے جائیں گے اور ان کی گاڑیوں کو گذرنے کی اجازت ہوگی۔ پینے کے پانی کی سربراہی، شہری و دیہی علاقوں میں صفائی کے انتظامات جاری رہیں گے۔ برقی کی پیداوار و سربراہی جاری رہے گی۔ قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کی آمدورفت کی اجازت رہے گی۔ پٹرول اور ڈیزل پمپس قومی شاہراہوں پر کھلے رہیں گے۔ ویر ہاوزنگ اور کولڈ اسٹوریج کی سرگرمیوں کو استثنیٰ رہے گا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو لاک ڈاؤن سے استثنیٰ دیا گیا ہے اور وہ اپنے شناختی کارڈز کے ذریعہ فرائض کی انجام دہی کر پائیں گے۔ سرکاری دفاتر میں 33 فیصد اسٹاف کے ساتھ کام ہوگا۔ گزشتہ لاک ڈاؤن کی طرح بینکس اور اے ٹی ایمس کھلے رہیں گے۔ شادیوں میں 40 افرادکی اجازت رہے گی جس کے لئے قبل از وقت اجازت کا حصول ضروری ہوگا۔ آخری رسومات اور تدفین میں زیادہ سے زیادہ 20 افراد کی شرکت کی اجازت ہوگی۔ تلنگانہ کی سرحدوں پر چیک پوسٹس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آر ٹی سی ، میٹرو اور دیگر عوامی ٹرانسپورٹ خدمات صبح 6 تا10 بجے کے درمیان رہیں گی۔ راشن شاپس صبح 6 تا10 بجے تک کھلے رہیں گے۔ ایل پی جی سلینڈرس کی سربراہی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ کابینہ نے سنیما ہالس، سوئمنگ پولس، کلبس، جمس ، امیوزمنٹ پارکس اور اسپورٹس اسٹیڈیمس بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی ہے کہ حکومت کے گائیڈ لائنس کے مطابق لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کیا جائے۔